حدیث

لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يَؤُمُّ القوم أقرؤهم لكتاب الله، فإن كانوا في القراءة سواء، فأعلمهم بالسنة، فإن كانوا في السنة سواء، فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء، فأقدمهم سِلْمًا، ولا يَؤُمَّنَّ الرجل الرجل في سلطانه، ولا يقعد في بيته على تَكْرِمَتِهِ إلا بإذنه».

ترجمہ

ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جس نے اسلام کو پہلے قبول کیا وہ امامت کرے۔ کوئی شخص کسی اور شخص کے دائرۂ اقتدار میں اس کی امامت نہ کرے اور نہ کسی آدمی کے گھرمیں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔

تشریح

حدیث شریف میں متعدد امور کا بیان ہے: اول: امامت کا حق دار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو تاہم ضروری ہے کہ وہ نماز کے احکام کو جانتا ہو کیوں کہ جو شخص نماز کے احکام سے واقف نہ ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ اگر قرآن کے حفظ میں لوگ برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اور اگر اس میں بھی وہ برابر ہوں تو ان میں سے جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امام بنے اور اگر اس میں بھی وہ برابرہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو وہ امامت کے لیے کھڑا ہو۔ دوم: صاحبِ بیت کی امامت کے لیے مہمان آگے نہ بڑھے اِلاّ یہ کہ میزباناسے اجازت دے دے۔ کیونکہ گھر والا امامت کا مہمان سے زیادہ حق دار ہے۔ سوم: مہمان گھر والے کے خاص بستر پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔

تشریح: العربية

يبين الحديث الشريف عدة أمور: أولها: الأحق بالإمامة وهو الأحفظ للقرآن، لكن لا بد أن يكون عالماً بأحكام صلاته؛ إذ ليس للجاهل بأحكام الصلاة أن يؤم الناس، فإن استووا في الحفظ، فالأعلم بالسنة فإن تساووا في ذلك، فأولهم هجرة فإن تساوو في ذلك، فأولهم إسلاماً. ثانيها: ألا يتقدم الضيف على صاحب البيت في الإمامة إلا إن أذن له، فصاحب البيت أولى بها من الضيف. ثالثها: ألا يقعد الضيف على فراش صاحب المنزل الخاص به إلا بإذنه.

  • استحباب ولاية الإمامة للأفضل فالأفضل، والفضل هو بالعلم الشرعي والعمل به.
  • الواجب أن يكون هذا درسًا للمسلمين في عموم الولايات، فلا يُقدَّم فيها ويولى عليها، إلاَّ من هو أهل لها، واجتمع فيه الشرطان العظيمان: الأمانة فيه، والقوة عليه، كما قال تعالى: {إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ (26)}، [القصص: 26]، وما ذلَّ المسلمون وفقدوا عزهم، وعمَّهم الفساد، إلاَّ بترك هذه الأمانة وإضاعتها، فقد جاء في صحيح البخاري أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "إذا ضيعت الأمانة، فانتظر الساعة، فقال أعرابي: كيف يا رسول الله! إضاعتها؟ قال: إذا أُسْنِدَ الأَمْر إلى غير أهله".
  • تكون الإمامة لمن هو أكثر حفظًا لكتاب الله -تعالى-؛ لأنَّ كتاب الله -تعالى- أساس العلوم النافعة، فمن كان فيه أعلم كان من غيره أفضل، فالعبرة بمن هو أعلم بكتاب الله وفقهه، ويشترط معرفته لفقه الصلاة.
  • المراد بقوله: "أقرؤهم لكتاب الله" هو أكثرهم حفظًا للقرآن، والذي يوضحه الحديث: "وليؤمكم أكثركم قرآنًا"، {رواه البخاري 4302}.
  • فإن استويا في القراءة، فأعلمهم بسنة نبيه محمَّد -صلى الله عليه وسلم-؛ فإنَّ السنة المطهرة هي الوحي الثاني، وهي المصدر الثاني للتشريع.
  • فإن استويا في العلم بالقرآن وحفظه، والعلم بالسنة وحفظها، فأقدمهم هجرةً من بلاد الكفر إلى بلاد الإسلام، فإن لم تكن هجرةٌ فأقدمهم توبةً وهجرةً عمَّا نهى الله عنه، وأقربهم امتثالاً لما أمر الله تعالى به.
  • وفي رواية: "فأقدمهم سنًّا"؛ ذلك أنَّ من قدم سنه قدُم إسلامه، وكثرت أعماله الصالحة.
  • هذا الترتيب ينبغي ملاحظته عندما يحضر جماعة ليصلوا، أو عند إرادة تولية الإمامة لأحد المساجد، أما إذا كان للمسجد إمام راتب فهو المقدَّم، ولو حضر أفضل منه؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "ولا يؤمَّنَّ الرجل في سلطانه".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید