حدیث

مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مردوں کی بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدترین صف ان کی آخری صف ہے۔ جب کہ خواتین کی بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدترین صف ان کی پہلی صف ہے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز میں مردوں کی سب سے بہتر، زیادہ ثواب کی حامل اور فضیلت والی صف پہلی صف ہے۔ کیوں کہ پہلی صف میں کھڑے لوگ امام سے قریب ہوتے ہیں، آسانی سے اس کی قراءت سن سکتے ہيں اور عورتوں سے دور ہوتے ہيں۔ جب کہ مردوں کی سب سے بری، کم ثواب، کم فضیلت والی اور شرعی مقاصد سے سب سے دوری والی صف آخری صف ہے۔ اس کے برخلاف عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے۔ کیوں کہ یہ ان کے حق میں زیادہ پردے کی حامل، مردوں کے ساتھ اختلاط، ان کے دیدار اور ان کے فتنہ سے زیادہ دور ہے۔ جب کہ ان کی سب سے بری صف پہلی صف ہے، جو مردوں سے قریب ہوتی ہے اور اس میں فتنے کے امکانات بھی رہتے ہيں۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں کو نیکی کے کاموں میں اور نماز کی پہلی صفوں میں جگہ پانے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ترغیب دی ہے۔
  • خواتین کے لیے مسجد میں مردوں کے ساتھ علاحدہ صفوں میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ لیکن پردہ وحجاب اور شائستگى ووقار کے ساتھ ۔
  • عورتیں اگر مسجد میں یکجا ہوں، تو منتشر رہنے کے بجائے وہ بھی مردوں کی طرح ہی صف بندی کریں گی۔ مردوں ہی کی طرح مل کر کھڑی ہوں گی اور خالی جگہوں کو بھر لیا کریں گی۔
  • شریعت نے عورتوں کو مردوں سے الگ رہنے کی ترغیب پوری شدت کے ساتھ دی ہے۔ حتی کہ عبادت کی جگہوں میں بھی۔
  • اعمال کے مطابق لوگوں کے الگ الگ درجات ہوا کرتے ہیں۔
  • نووی کہتے ہیں: جہاں تک مردوں کی صفوں کی بات ہے، تو علی الاطلاق ان کی پہلی صف سب سے اچھی صف اور آخری صف سب سے بری صف ہوا کرتی ہے۔ لیکن جہاں تک عورتوں کی بات ہے، تو اس حدیث کی روشنی میں عورتیں جب مردوں کے ساتھ نماز پڑھ رہی ہوں، تو ان کی سب سے بری صف پہلی صف اور سب سے اچھی صف اخری صف ہے۔ لیکن جب ان کی الگ جماعت ہو رہی ہو، تو وہ مردوں ہی کی طرح ہیں۔ ان کی سب سے بہتر صف پہلی صف اور سب سے بری صف آخری صف ہوگی۔
  • نووی کہتے ہیں: قابل ستائش پہلی صف، جس کی فضیلت اور جس میں کھڑے ہونے کی ترغیب سے متعلق حدیثیں آئی ہيں، وہ صف ہے جو امام کے ٹھیک بعد ہو۔ خواہ اس میں کھڑا ہونے والا شخص پہلے آئے یا بعد میں۔ خواہ درمیان میں کوئی كمره وغیرہ حائل ہو یا نہ ہو۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّ خيرَ صفوف الرجال في الصلاة وأكثرها ثوابًا وفضلًا أولُها؛ لقربهم من الإمام واستماعهم لقراءته وبُعْدِهم من النساء، وشرّها وأقلّها ثوابًا وفضلًا وأبعدها من مطلوب الشرع آخرها، وخير صفوف النساء آخرها؛ لأنه أسترُ لهن، وأبعد من مخالطة الرجال ورؤيتهم والفتنة بهم، وشرها أولها؛ لقربها من الرجال والتعرض للفتنة.

  • حث الرجال على المسارعة إلى الطاعات والصفوف الأولى في الصلوات.
  • جواز صلاة النساء في المسجد مع الرِّجال في صفوف مستقلة، لكن مع التَّستُّر والحِشْمَة.
  • النَّساء إذا اجتمعن في المسجد، فإنهن يَكُنَّ صفوفًا، كصفوف الرِّجال، ولا يتفرقن، بل عليهن التَّراص في الصّف وسدّ الخلل، كما في صفوف الرجال.
  • بيان شدة عناية الشرع بالحث بابتعاد النساء عن الرجال حتى في مواطن العبادة.
  • تفاضل الناس بحسب أعمالهم.
  • قال النووي: أما صفوف الرجال فهي على عمومها، فخيرها أولُها أبدًا، وشرها آخرها أبدًا، أما صفوف النساء فالمراد بالحديث: صفوف النساء اللواتي يصلين مع الرجال، وأما إذا صلين متميزات لا مع الرجال فهن كالرجال؛ خير صفوفهن أولُها وشرُّها آخرُها.
  • قال النووي: الصف الأول الممدوح الذي قد وردت الأحاديث بفضله والحث عليه هو الصف الذي يلي الإمام؛ سواء جاء صاحبه متقدِّمًا أو متأخرًا، وسواء تخلله مقصورة ونحوها أم لا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید