حدیث

اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن الحسن، أن أبا بَكْرَة جاء ورسول الله راكع، فركع دون الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف فلما قَضَى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته، قال: «أيُّكم الذي ركع دون الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف؟» فقال أبو بَكْرَة: أنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «زادَك الله حِرْصَا ولا تَعُد».

ترجمہ

حسن سے روایت ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے۔ جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: ’’تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟‘‘ ابوبکرہ نے کہا: میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا“۔

تشریح

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو رکوع کی حالت میں پایا، چناں چہ انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا تاکہ رکعت پاسکیں، پھر وہ رکوع كي حالت میں صف میں ملنے کے لئے چلے یہاں تک کہ مقتدیوں کے ساتھ صف میں داخل ہو گئے، نبی ﷺ نے صف کے پیچھے کی حرکت کو محسوس کیا اور سمجھ گئے کہ کوئی تیز چل کر آیا ہے اورصف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا ہے، بلکہ یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی کہ آپ نماز میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھ لیتے جس طرح آپ ﷺ اپنے سامنے سے دیکھتے۔ پھر جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پو چھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر صف میں ملنے کے لئے چل کر آیا؟ ابو بکرہ نے کہا: میں نے، یعنی جو آپ دریافت کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! وہ میں نے کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص و چاہ اور رغبت کو بڑھائے، لیکن دوبارہ رکعت پانے کے لئے تیز چل کر نہ آنا اور نہ صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کرنا، اس لئے کہ جلد بازی سکون اور وقار کے منافی و خلاف ہے، اور آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ: ”صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی“ ابو بکرہ کا عمل اس سے خارج ہے کیوں کہ صف کے پیچھے ان کا تنہا رہنا تھوڑی دیر کے لیے تھا، جیسے کہ کسی نے تنہا رکوع کیا اورحالت رکوع ہی میں کوئی اس کے ساتھ آکر مل گیا، پھر بھی ایسا کرنا آپ ﷺ کے اس فرمان: ”دوبارہ ایسا نہ کرنا“ کی وجہ سے مشروع و درست نہیں ہے۔

تشریح: العربية

أن أبا بَكْرَة دخل المسجد فوجد النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه في حال الرُّكوع، فبَادر بالرُّكوع قبل أن يَصل إلى الصَّف لأجل أن يدرك الرَّكعة، ثم مَشَى إلى الصَّف وهو راكع، حتى دخل مع المأمومين في الصِّف. فالنبي صلى الله عليه وسلم شَعَر بحركة خَلف الصَّف، وأن هناك من جاء مسرعا وركع قبل أن يصل إلى الصَّف، بل من خصائصه أنه يرى من خلفه في الصلاة كما يرى من أمامه، فلمَّا فرغ النبي صلى الله عليه وسلم من صلاته سأل قائلا: من الذي ركع قبل الصَّف ثم مَشَى إلى الصَّف؟ فقال أبو بَكْرَة: أنا يعني: أنا من فعل ما ذكرت يا رسول الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : زادك الله رغْبَة وشِدة في الخير، والمُسَارعة إليه، ولا تَعُد إلى الإسْرَاع في المشي لإدراك الركعة ولا الرُّكوع قبل الصف؛ لأن الإسْرَاع مُناف للسَّكينة والوَقار، وقد قال صلى الله عليه وسلم : (لا صلاة لمنفرد خلف الصَّف)، وفعل أبي بكرة لم يدخل فيه لأنه انفراد بعمل يسير، كمن ركع وحده ثم أدرك آخر وصف معه في حال الركوع، لكنه لا يشرع لقوله: (ولا تعد).

  • أن من أدرك الإمام راكعاً، فركع دون الصَّف، ثم دخل فيه، أو وقف معه آخر فقد أدرك الَّركعة.
  • النَّهي عن الدخول في الصلاة قبل الوصول إلى الصَّف؛ لقوله: (ولا تَعُد).
  • نهي النَّبي -صلى الله عليه وسلم- أبا بَكرة عن الإسراع إلى الصلاة؛ لأنَّه مُناف للسَّكينة والوَقَار.
  • أنَّ المَشْي اليَسِير في الصلاة لمصلحتها لا يَضر الصلاة، ولا يُخِلُّ بها؛ لقوله: (ثم مَشَى إلى الصَّف).
  • أنَّ الركعة تُدرك بإدراك الرُّكوع مع الإِمام؛ فالنبي -صلى الله عليه وسلم- أجاز له ركعته، ولو كانت غير مجزئة لأمره بإعادتها، وقد حكى الإجماع على ذلك شيخ الإِسلام ابن تيمية -رحمه الله تعالى-.
  • استدل به على جواز صلاة المنفرد خلف الصَّف، وهذا الاستدلال فيه نظر؛ لأن أبا بَكْرَة -رضي الله عنه- لم يستمر في جميع صلاته منفردا، بل كَبَّر منفردا، ثم ركع ثم دخل في الصف قبل أن يرفع الإمام رأسه من الرُّكوع، وعلى هذا لا يتم الاستدلال بهذا الحديث على جواز الصلاة منفردا خلف الصف.
  • سقوط قراءة الفاتحة في حق من أدرك الإمام راكعا.
  • فضيلة أبي بَكْرَة -رضي الله عنه- وحرصه على إدراك صلاة الجماعة ودُعَاء النبي -صلى الله عليه وسلم- له، وتأييد أنَّ ما فعله هو من دواعي الحرص على العبادة، وطاعة الله.
  • حُسن خُلق النبي -صلى الله عليه وسلم- ؛ حيث لم يُعنف أبا بَكَرَة -رضي الله عنه- بل علَّمه ما يجهله برفق.
  • أن من ارتكب محظورا جاهلا فإنه لا إثم عليه، لكن يُعلَّم كما فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- مع أبي بَكرة -رضي الله عنه-.
  • المستحب الدخول في الصلاة مع الإِمام على أية حال وجده عليها، سواء كان راكعا أو ساجدا، ولا ينتظره حتى يستتم قائما.
  • المُبادرة في إنكار المنكر وعدم السُّكوت عليه، والقاعدة عند الفقهاء : "لا يجوز تأخير البيان عن وقت الحاجة".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید