حدیث

’’یہ دونوں (عشا و فجر کی) نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں۔ اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہو جائے، تو تم ان میں ضرور آؤگے، گھٹنوں کے بل چل کر ہی سہی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والنسائي وأحمد

عربی متن

عن أُبيِّ بن كعبٍ رضي الله عنه قال: صلَّى بنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم يومًا الصُّبحَ فقال: «أشاهِد فُلان؟» قالوا: لا، قال: «أشاهِدٌ فُلان؟» قالوا: لا، قال: «إنَّ هاتيَنِ الصَّلاتين أثقَلُ الصَّلَواتِ على المُنافقين، ولو تعلمون ما فيهما لأتيتُمُوهما ولو حَبْوًا على الرُّكب، وإن الصفَّ الأوّلَ على مِثلِ صَفِّ الملائكة، ولو عَلِمتُم ما فضيلتُه لابتَدَرتُموهُ، وإنّ صلاةَ الرجل مع الرجل أزكى من صلاتِه وحدَه، وصلاتَه مع الرجلَين أزكى من صلاتِه مع الرجل، وما كَثُرَ فهو أحبُّ إلى الله تعالى».

ترجمہ

ابي بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد فرمایا: ’’کیا فلاں شخص حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا فلاں شخص حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ دونوں (عشا و فجر کی) نمازیں منافقوں پر بقیہ نمازوں سے زیادہ گراں ہیں۔ اگر تم کو ان دونوں کی فضلیت کا علم ہو جائے، تو تم ان میں ضرور آؤگے، گھٹنوں کے بل چل کر ہی سہی۔ بلا ريب پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے۔ اگر اس کی فضلیت کا علم تم کو ہو جائے، تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کروگے۔ ایک شخص کا دوسرے شخص کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا اس کے تنہا نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے اور ایک شخص کا دو شخصوں کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیا دہ بہتر ہے۔ جس قدر جماعت کی تعداد زیادہ ہوگی، اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہوگی۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دن فجر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد پوچھا کہ کیا ہماری اس نماز میں فلاں شخص موجود ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ نے دوسرے شخص کے بارے میں پوچھا کہ کیا فلاں شخص موجود ہے؟ صحابہ نے اس بار بھی نہیں میں جواب دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بلاشبہ فجر اور عشا کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں، کیوں کہ ان دونوں اوقات میں سستی کا غلبہ رہتا ہے اور ریاکاری کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ تاریکی کی وجہ سے کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ اے مومنو! اگر تم جان لو کہ صبح اور عشا کی نماز میں کتنا اضافی اجر و ثواب ہے، (کیوں کہ اجر و ثواب مشقت کے بہ قدر ملا کرتا ہے) تو تم ان دونوں نمازوں میں ضرور پہنچوگے۔ چاہے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ پہنچنا پڑے۔ بلاشبہ پہلی صف اس میں کھڑے لوگوں کے امام سے قریب ہونے کے لحاظ سے فرشتوں کی صف کی مانند ہے اللہ سے قریب ہونے کے لحاظ سے۔ اگر ایمان والے پہلی صف کی فضیلت سے واقف ہو جائيں، تو اس میں کھڑے ہونے کے لیے مقابلہ آرائی کرنے لگيں۔ بلاشبہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے اور دو شخص کے ساتھ نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ جس نماز میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو، وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور افضل ہے۔

فوائد

  • مسجد کے امام کا مقتدیوں کے حالات کا جائزہ لینا اور جو مصلی غائب ہوں، ان کے بارے میں دریافت کرنا جائز ہے۔
  • نماز باجماعت کا اہتمام بطور خاص عشا اور فجر کی نماز کا باجماعت التزام کرنا ایمان کی علامت ہے۔
  • حدیث سے عشا اور فجر کی نماز کے عظیم اجر وثواب کا پتہ چلتا ہے، کیوں کہ ان نمازوں میں حاضر ہونے کا تقاضا ہے کہ نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے اور اطاعت پر صبر کیا جائے، اس لیے ان نمازوں کا اجر دیگر نمازوں سے زیادہ ہے۔
  • باجماعت نماز دو یا دو سے زیادہ لوگوں سے منعقد ہوتی ہے۔
  • پہلی صف کی فضیلت کا بیان اور آگے بڑھ کر اس میں شامل ہونے کی ترغیب۔
  • اس حدیث سے جماعت میں کثیر تعداد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ لوگ جتنے زیادہ ہوں گے، اتنا ہی زیادہ جماعت کا اجر و ثواب ملے گا۔
  • حالات کے پیش نظر اور شریعت کے اہمیت دینے کے اعتیار سے صالح اعمال فضیلت میں باہم متفاوت ہوتے ہیں۔
تشریح: العربية

صَلَّى النبيُّ الله صلى الله عليه وسلم يومًا الفجر، ثم سأل: أحاضر فلان صلاتنا هذه؟ قال الصحابة: لا. ثم قال: أحاضر فلان؟ لشخص آخر، قالوا: لا. قال صلى الله عليه وسلم: إنّ صلاة الفجر والعشاء أثقل الصلوات على المنافقين؛ لغَلَبة الكسل فيهما، ولقلة تحصيل الرياء لهما، حيث لا يُرون في الظلام. ولو تعلمون أيها المؤمنون ما في صلاتي الصبح والعشاء من الأجر والثواب الزائد -لأن الأجر على قدر المشقة- لأتيتموهما ولو زحفًا ومشيًا على الأيدي والركب. وإن الصف الأول في قربهم من الإمام كمثل صف الملائكة في قربهم من الله تعالى، ولو يعلم المؤمنون ما فضيلة الصف الأول لتسابقوا إليه، وإن صلاة الرجل مع الرجل أعظم ثوابًا وأثرًا من صلاته وحده، وصلاته مع الرجلين أفضل مع الرجل الواحد، والصلاة التي كثر المصلون فيها فهي أحب إلى الله وأفضل.

  • مشروعية تَفقُد إمام المسجد أحوال المأمومين، والسؤال عمن غَاب منهم.
  • مُلازمة صلاة الجماعة، ولاسيما صلاة العشاء والفجر من علامات الإيمان.
  • عِظَم أجر صلاتي العِشاء والفجر؛ لما في الإتيان إليهما من مجاهدة النَّفس والمُصَابرة على الطَّاعة، فكان أجرهما أعظم من غيرهما.
  • صلاة الجماعة تنعقد باثنين فما فوق.
  • بيان فضل الصف الأول، والترغيب في المبادرة إليه.
  • فضل كثرة الجماعة، فإنه كلما كثر الجمع كان الأجر أكثر.
  • الأعمال الصالحة تتفاوت في الفضل بحسب تفضيل الشرع لها، وما تتصف به من أحوال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید