حدیث

ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أُمِّ ورَقة بنت عبد الله بن الحارث الأنصارية، أنها كانت قد جَمعت القرآن، وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد أَمَرَهَا أن تَؤُمَّ أهل دارِها، وكان لها مُؤَذِّنٌ، وكانت تَؤُمُّ أهل دارها.

ترجمہ

ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ کی امامت کریں۔ چنانچہ ان کا ایک موذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرتی تھیں۔

تشریح

ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ پانچوں نمازوں میں اپنے گھر والوں کی امام بنیں۔ ان کا ایک مؤذن تھا جو پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا تھا اور وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کیا کرتی تھیں کیوں کہ دار قطنی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”وتؤم نِسَاءها“ (گھر کی عورتوں کی امام کرے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی امامت صرف عورتوں کی حد تک تھی۔

تشریح: العربية

أن أُمَّ ورَقة الأنصارية رضي الله عنها كانت قد جَمعت القرآن أي: حفظته عن ظهر قَلب رضي الله عنها ، وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد أَمَرَهَا أن تكون إمامة لأهل بيتها في الصلوات الخمس، فكان لها مُؤَذِّنٌ يؤذن لها الصلوات الخَمس، وكانت تَؤُمُّ أهل دارِها من النِّساء لرواية الدارقطني: (وتؤم نِسَاءها)، فدل على أن إمامتها مقيدة بالنِّساء فقط.

  • فضيلة أُمِّ ورقة -رضي الله عنها-.
  • استحباب صلاة الجماعة للنساء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید