ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم اسْتَخْلَفَ ابن أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُم الناس وهو أعْمَى.
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔
تشریح
نبی اکرم ﷺ نے ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو کسی سفر میں اپنا نائب بنایا۔ وہ آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں آپ کا نائب بن کر لوگوں کی امامت کراتے تھے۔ آپ ﷺ دوسروں کو چھوڑ کر ابنِ امّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ان کے سبقتِ اسلام کی وجہ سے اپنی نیابت کے لیے چنتے تھے، وہ ابتدائی دور میں ہجرت کرنے والوں میں سے تھے نیز وہ قرّاء اور علماء میں سے تھے، چنانچہ ان تمام فضائل کی وجہ سے وہ امامت کے زیادہ مستحق تھے۔ آپ ﷺ کا ابنِ امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ذمہ دار بنانا صرف نماز پڑھانے کی حد تک محصور نہیں تھا بلکہ یہ عام ذمہ داری تھی جو نماز اور دیگر سب چیزوں کو شامل تھی، انہیں فتویٰ دینے کا بھی حق تھا، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بھی حق تھا، وہ آپ ﷺ کی غیرموجودگی میں مدینہ والوں کے تمام معاملات سنبھال تھے۔ اس پر طبرانی کی روایت دلالت کرتی ہے جسے عطا رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابن امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو نماز اور مدینہ کے معاملات طے کرنے کے لیے اپنا نائب بنایا۔ إرواء الغليل میں علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابو داؤد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ابنِ مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ پر اپنا نائب بنایا۔
تشریح: العربية
جعل النبي صلى الله عليه وسلم ابن أم مكتوم رضي الله عنه خلفًا له في بعض أسفاره، فكان يصلي بالناس إماما نيابة عنه صلى الله عليه وسلم فترة غيابه؛ وإنما كان اختياره صلى الله عليه وسلم لابن أُمِّ مكتوم دون غيره؛ لسابقته في الإِسلام، فهو من المهاجرين الأولين، وهو من القُرَّاء والعلماء، فاستحق الإمامة بهذه الفضائل وغيرها، وولاية النبي صلى الله عليه وسلم لابن أُمِّ مكْتُوم لا تقتصر على الصلاة، بل هي ولاية عامة في الصلاة وغيرها، فله أن يُفتي، وله أن يقضي بين الناس، ويدير جميع شؤون أهل المدينة في حال غياب النبي صلى الله عليه وسلم ، ويدل له ما رواه الطبراني عن عطاء عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم : استخلف ابن أم مكتوم على الصلاة وغيرها من أمر المدينة، حسنه الألباني في إرواء الغليل، وفي رواية أبي داود الأخرى: أن النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن أم مَكْتُوم على المدينة مرتين.
- جواز استخلاف الأعمى في إمامة الناس، ولو لم يكن أقرأ الناس وأعلمهم بالسُّنة؛ لأنه نائب يقوم مقام الإمام الراتب.
- فيه ثقة النبي -صلى الله عليه وسلم- بعبد الله ابن أُمِّ مكتوم -رضي الله عنه- وهذه الثِّقة تعتبر من مَنَاقِبِه الكِبَار، فهي ثقة مؤيدة بالعصمة النَّبوية، فتكون كالشَّهادة النبوية على صلاحه.
- صحة ولاية الأعمى على القضاء والفُتْيَا وغير ذلك.