حدیث

حجۃ الوداع میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرایا گیا تھا اور میں اس وقت سات سال کا تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن السَّائب بن يزيد رضي الله عنهما قال: «حُجَّ بي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، وأنا ابن سبع سنين».

ترجمہ

سائب بن يزيد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کرایا گیا تھا اور میں اس وقت سات سال کا تھا۔

تشریح

سائب بن یزید رضی اللہ عنہما ایک کم سن صحابی تھے۔ ان کے گھر والوں نے نبی ﷺ کے زمانے میں انھیں لے کر حج کیا۔ اس طرح وہ حجۃ الوداع میں شریک ہو گئے۔ نبی ﷺ نے بچوں کو ساتھ لے کر حج کرنے پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ بچے کے لیے یہ ایک نفلی حج شمار ہوتا ہے اور بلوغت کے بعد اس پر دوبارہ اسلام کی رو سے فرض شدہ حج کرنا ضروری ہوتا ہے۔ حج کے دوران بچہ بھی ویسے ہی کرتا ہے، جیسے بڑا (بالغ) کرتا ہے۔ یعنی احرام باندھتا ہے، سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے، تلبیہ کہتا ہے اور اس طرح کے دیگر افعال سر انجام دیتا ہے۔ اگر بچہ ایسا نہ کر سکے تو اس کی طرف سے اس کا سربراہ مثلاً باپ یا ماں کرے۔

تشریح: العربية

السائب بن يزيد رضي الله عنهما صحابيٌّ صغير، حجَّ به أهْلُهُ على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فأدرك حجة الوداع، وأقرهم النبي -عليه الصلاة والسلام- على الحج بالصبيان، وتُحسَبُ له حجة تطوع، لكن إذا بلغ يَلْزَمُهُ أن يحج مَرةً أخرى حجة الإسلام، ويفعل الصَّبِيُّ في الحج مثل فعل الكبير من الإحرام والتَّجرُّد مِنَ المخِيطِ والتلبية ونحوها، فإذا عجز عنها فعلها عنه وَلِيُّهُ، كأبيه وأمه.

  • جواز حجِّ الصبي قبل البلوغ؛ ليتعود على الطاعة ويَألَفَهَا.
  • تَدْرِيبُ الأبناء على أداء العبادات.
  • كِتَابةُ الأجر للصبي والولي على أداء الحج وإن كان تطوعًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید