حدیث

”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جس شخص نے حج کیا اور اس نے (اس دوران) جماع اور اس کے مقدمات، فحش گوئی اور گناہ کے کاموں سے پرہیز کیا، تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح) لوٹتا ہے، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ تعالی کے لیے حج کیا اور اس دوران جماع اور اس کے مقدمات جیسے بوس و کنار اور مباشرت وغیرہ سے پرہیز کیا، فحش گوئی سے گریزاں رہا، نافرمانی اور گناہ کے کاموں سے دور رہا اور ان کاموں سے دور رہا، جو احرام کے دوران منع ہیں، وہ اپنے حج سے بخشے بخشائے اور گناہوں سے پاک صاف ہوکر لوٹتا ہےبالکل اسی طرح جس طرح بچہ گناہوں سے پاک صاف پیدا ہوتا ہے۔

فوائد

  • گناہ کے کام اگرچہ تمام حالات میں ممنوع ہيں، لیکن حج کے دوران ان کی ممانعت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایسا مناسک حج کی تعظیم کی وجہ سے ہے۔
  • انسان گناہوں سے پاک صاف پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہيں ہوتا۔
تشریح: العربية

يُبَيِّن النبي صلى الله عليه وسلم أنَّ مَنْ حَجَّ لله تعالى ولم يرفث، والرَّفَث الجماع ومقدماته من التقبيل والمباشرة، ويطلق أيضًا على القول الفاحش، ولم يفسق، بفعل المعاصي والسيئات، ومن الفسوق فعل محظورات الإحرام، رَجع من حَجِّهِ مغفورًا له، كما يولد الصّبِي سالمًا من الذنوب.

  • الفُسُوق وإن كان ممنوعًا في جميع الأحوال، فيتأكد النهيُ عنه في الحج تعظيمًا لمناسك الحج.
  • الإنسان يولد بدون خطايا مُبرَّءًا من الذنوب؛ فهو لا يحمل خطيئة غيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید