ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى الجِهَادَ أَفْضَلَ العَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ؟ قَالَ: «لَا، لَكُنَّ أَفْضَلُ الجِهَادِ: حَجٌّ مَبْرُورٌ».
ترجمہ
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“
تشریح
صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور دشمنوں سے جنگ لڑنے کو افضل ترین اعمال میں شمار کرتے تھے۔ لہذا عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاد میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ تو آپ نے ان کی رہنمائی ان کے حق میں افضل ترین جہاد یعنی حج مبرور کی جانب کر دی جو کتاب و سنت کے مطابق ادا کیا گیا ہو اور گناہ و ریاکاری سے محفوظ ہو۔
فوائد
- جہاد مردوں کے حق میں ایک افضل ترین عمل ہے۔
- حج عورتوں کے حق میں جہاد سے افضل عمل ہے۔ حج عورتوں کے لیے افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے۔
- اعمال میں عمل کرنے والے کے حساب سے تفاوت ہوا کرتا ہے۔
- حج کو جہاد اس لیے کہا گیا کہ یہ نفس کا مجاہدہ ہے، مال خرچ ہوتا ہے اور بدن کی طاقت صرف ہوتی ہے۔ حج بھی جہاد فی سبیل اللہ کی طرح بدنی اور مالی عبادت ہے۔
تشریح: العربية
كَانَ الصحابةُ رضيَ الله عنهم يَرون الجهادَ في سبيل الله ومقاتلة الأعداء من أفضل الأعمال، فسألت عائشة رضي الله عنها النبي صلى الله عليه وسلم أنْ يجاهِدْن؟ فأرشَدَهُنَّ صلى الله عليه وسلم إلى أفضل الجهاد في حقِّهن وهو الحج المبرور الموافق للكتاب والسنة، السالم من الإثم والرياء.
- الجهاد مِن أفضل الأعمال للرجال.
- الحجُّ للنِّساء أفضلُ من الجهاد، وهو من أفضل الأعمال لهن.
- الأعمال تتفاضلُ وتتفاوت بحسب العامل.
- سُمِّيَ الحجُّ جهادًا؛ لأنه جهادٌ للنفس، وفيه بذلٌ للمال، وطاقة للبدن، فهو عبادة بدنية ومالية كالجهاد في سبيل الله.