حدیث

ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه قال: «أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَيْنٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ، وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : اُطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي سَلَبَهُ». فِي رِوَايَةٍ «فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ فَقَالُوا: ابْنُ الأَكْوَعِ فَقَالَ: لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ».

ترجمہ

سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور صحابہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتا رہا، پھر خاموشی سے کھسک گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے ڈھونڈو اور قتل کر ڈالو“۔ میں نے اسے قتل کر دیا، تو آپ ﷺ نے اس کا سامان مجھے بطور نفل (انعام) عنایت فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے پوچھا: ”اس کو کس نے قتل کیا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ ابن اکوع نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان ابن اکوع کا ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں ایسے کافر حربی شخص کے متعلق اسلام کا قانون بتایا جا رہا ہے، جو مسلمانوں کی جاسوسی کرتا ہو۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا۔ "العین" یعنی جاسوس۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ وہ آنکھ ہی سے کام کرتا ہے یا دیکھنے میں اس قدر منہمک رہتا ہے کہ سراپا آنکھ بن جاتا ہے۔ اس وقت آپﷺ سفر پر تھے۔ چنانچہ جاسوس صحابہ کے درمیان بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ پھر وہاں سے کھسک گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو اور قتل کر دو۔ چنانچہ میں نے اسے تلاش کر کے پکڑ لیا اور قتل کر دیا۔ آپ نے مجھے اس کا سامان بطور نفل دے دیا۔ نفل وہ غنیمت کا وہ مال ہے، جو کسی مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے۔ "سلب" یعنی اس کے کپڑے اور ہتھیار وغیرہ۔ انھیں "سلب" اس لیے کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ انھیں چھینا جاتا ہے۔ "سلب" میں سواری، اس کا زین، ہتھیار، چوپایے پر موجود مال اور ان کے ساتھ موجود سونا چاندی وغیرہ سب شامل ہیں۔

تشریح: العربية

هذا الحديث في بيان حكم الإسلام فيمن يتجسس على المسلمين من الكفار الحربيين؛ فقد أخبر سلمة بن الأكوع رضي الله عنه ، قال: "أتى النبي صلى الله عليه وسلم عين من المشركين" العين الجاسوس سمي به؛ لأن عمله بالعين، أو لشدة اهتمامه بالرؤية واستغراقه فيها كأن جميع بدنه صار عينا. "وهو": أي والحال أن النبي صلى الله عليه وسلم "في سفر، فجلس أي: الجاسوس، عند أصحابه يتحدث، ثم انفتل أي: انصرف، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : اطلبوه واقتلوه فقتلته، أي: فطلبته فوجدته فقتلته، فنَفَّلَنِي أي: أعطاني نفلًا، وهو ما يخص به الرجل من الغنيمة، ويزاد على سهمه، "سَلَبه": أي: ما كان عليه من الثياب والسلاح سمي به؛ لأنه يسلب عنه، ويدخل في السلب: المركب وما عليه من السرج والآلة، وما معه على الدابة من مال، وما على وسطه من ذهب وفضة.

  • قتل العين الذي يبعثه الأعداء ليتعرف على أحوال المسلمين؛ لأن في تركه ضرراً على المسلمين بالإخبار عن حالهم، ومكان الضعف منهم، والدلالة على ثغراتهم، بخلاف الرسل، فإنهم لا يُؤذوْن؛ لأنهم دعاة سلام وصلة التئام، وهذا من محاسن الإسلام.
  • فيه أن من قتل قتيلاً في المعركة وأقام على قتله إياه بَينةً؛ فله سلبه الذي تقدم تعريفه.
  • أن السلب للقاتل، سواء قاله قائد الجيش قبل القتال أو بعده.
  • إعطاء القاتل سلب قتيله من باب التشجيع على قتال الأعداء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید