ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن البراء بن عازِب رضي الله عنهما قال: «أَمرَنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عن سَبْعٍ: أَمَرْنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ (أَوْ الْمُقْسِمِ)، وَنَصْرِ الْمَظْلُوم، وَإِجابة الدَّاعي، وَإِفْشاءِ السَّلامِ. وَنَهَانَا عن خَوَاتِيمَ- أَو عن تَخَتُّمٍ- بِالذَّهَب، وَعَنْ الشُّرب بِالْفِضَّة، وعن المَيَاثِر، وعن الْقَسِّيِّ، وَعن لُبْسِ الحرِيرِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيباج».
ترجمہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں ”يرحمك الله“ کہنے، قسم (یا قسم کھانے والے کی قسم) كو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام پھیلانے کا حکم فرمایا تھا اور آپ صﷺ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے-یاسونے کیانگوٹھیاں پہننے سے-، چاندی کے برتن میں پینے سے، 'میثر' (کجاوے کے اوپر کے ریشمی گدے) اور 'قسی' (قس نامی مصری بستی کی طرف منسوب ریشمی کپڑے) کے استعمال کرنے سے اور ریشم، 'استبرق' (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹن ریشمی کپڑا) اور 'دیباج' (باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے منع فرمایا تھا۔
تشریح
نبی کریم ﷺ کو دنیا میں اس مقصد سے مبعوث کیا گیا کہ آپ اعلی اخلاق کی تکمیل فرمادیں؛ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر طرح کے اعلی و عظیم اخلاق و اعمال کی ترغیب فرماتےاور ہر قبیح و ناشائستہ اخلاق و اعمال سے منع فرمایا کرتے۔ آپ ﷺ کے انھی اوامر میں سے کچھ اشیا کا ذکر اس حدیث میں ہے۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے۔ جو درحقیقت ایک اسلامی حق کی ادائیگی، اسے قدرے راحت رسانی اور اس کے حق میں دعاسے عبارت ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جنازہ کے پیچھے چلا جائے؛ کیوں کہ یہ جنازے کے پیچھے چلنے والےکے لیے اجرو ثواب، میت کے حق میں دعا، اہل قبور کے حق میں سلام، وعظ و نصیحت اور عبرت و سبق آموزی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ چھینکنے والے کے "الحمدللہ" کہنے کے جواب میں "یرحمک اللہ" کہا جائے۔ چوتھا ہے قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا۔ جب وہ تمھیں (قسم دے کر) کسی کام کے لیے بلائے اوراس کی قسم پوری کرنے میں تمھیں کسی طرح کا نقصان نہ ہو، تو اس کی قسم کو پوری کردو؛ تاکہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کی دل جمعی کا سامان کردو۔ پانچواں یہ ہے کہ مظلوم کی ظالم کے خلاف مدد کی جائے؛ کیوں کہ اس عمل میں ظلم کا تدارک، ظالم کو اس کی دست درازیوں سے روکنا، اس کو ایذا رسانی سے باز رکھنا، منکر و برائی سے منع کرنا، جیسے امور شامل ہیں۔ چھٹا امر ہے دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہنا؛ کیوں کہ دعوت قبول کرنا در اصل دلوں میں قربت پیدا کرنے اور شکوک وشبہات سے پاک رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے باز رہنے کی صورت میں احساس بے گانگی اور باہمی نفرت انگیزیاں پروان چڑھتی ہیں۔ دعوت اگر شادی کی ہو، تو اس کا قبول کرنا واجب ہے اور دیگر دعوتوں کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ساتواں امر یہ ہے کہ سلام کو عام کیا جائے۔ یہ دراصل ہر کس و ناکس کے لیے سلامتی کا اعلان و اظہار، سنت کی تعمیل، مسلمانوں کی ایک دوسرے کے حق میں سلامتی کی دعا اور محبت و یگانگت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا گيا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرد حضرات سونے کی انگوٹھیا ں نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے نسوانیت و زنانہ پن کی طرف میلان اور مردانگی کی نفی ہوتی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ چاندی کے برتن میں نہ پیا جائے؛ کیوں کہ اس میں مال کی تباہی اور تکبر کا اظہار ہےاور جب ان برتنوں میں پینے سے روک دیا گیا، جو انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے، تو مابقی دیگر تمام استعمالات میں یہ ممانعت اور حرمت بدرجۂ اولی ثابت ہوتی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ میاثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا)، قسی (مصر کے قس نامی ایک دیہات سے منسوب اوراطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا، جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے)، حریر (ریشمی لباس)، دیباج (باریک ریشمی کپڑا) اور استبرق (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹا ریشمی کپڑا) جیسے ریشمی لباس کی تمام انواع کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا گیا؛ کیوں کہ ملبوسات کی یہ تمام انواع، انسانی مزاج میں سستی اور عیش پرستی پیدا کرتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں مزاج میں جمود و تعطل اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں، جب کہ مردوں کی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چاق و چوبند رہیں اور جفاکشی اور اولو العزمی کی صفات کے حامل ہوں؛ تاکہ اپنے دین، اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کے دفاعی فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ کمر بستہ رہیں۔
تشریح: العربية
بُعِثَ النبي صلى الله عليه وسلم ليُتم مكارم الأخلاق، ولذا فإنه يحث على كل خلق وعمل كريمين، وينهى عن كل قبيح، ومنْ ذلك ما في هذا الحديث من الأشياء التي أمر بها وهي: عيادة المريض التي فيها قيام بحق المسلم، وتَرويح عنه، ودُعاء له، واتباع الجنازة، لما في ذلك من الأجر للتابع والدعاء للمتبوع، والسلام على أهل المقابر والعِظة والاعتبار، وتشميت العاطس إذا حمد الله فيقال له: يرحمك الله. وإبرار قسم المقسم إذا دعاك لشيء وليس عليك ضرر فتبر قسمه، لئلا تُحوجه إلى التكفير عن يمينه، ولتجيب دعوته وتجبر خاطِرَهُ، ونصر المظلوم من ظالمه لما فيه من رد الظلم، ودفع المعتدي وكفه عن الشر، والنهي عن المنكر، وإجابة من دعاك، لأنَّ في ذلك تقريبا بين القلوب وتصفية النفوس، وفي الامتناع الوحشة والتنافر. فإن كانت الدعوة لزواج فالإجابة واجبة، وإن كانت لغيره فمستحبة، و إفشاء السلام، وهو إعلانه وإظهاره لكل أحد، وهو أداء للسنة، ودعاء للمسلمين من بعضهم لبعض، وسبب لجلب المودة. أما الأشياء التي نهى عنها في هذا الحديث فالتختم بخواتم الذهب للرجال، لما فيه من التأنث والميوعة، وانتفاء الرجولة، وعن الشرب بآنية الفضة، لما فيه من السَّرَفِ والتكبر، وإذا منع الشرب مع الحاجة إليه فسائر الاستعمالات أولى بالمنع والتحريم، وعن المياثر، والقسي، والحرير، والديباج، والإستبرق، وهي من أنواع الحرير على الرجال؛ فإنها تدعو إلى اللين والترف اللذين هما سبب العطالة والدَّعَةَ، والرجل يطلب منه النشاط والصلابة والفتوة، ليكون دائماً مستعداً للقيام بواجب الدفاع عن دينه وحرمه ووطنه.
- استحباب عيادة المريض.
- استحباب اتباع الجنائز للصلاة عليها ودفنها إذا قام بذلك من يكفي، وإلا فهي فرض كفاية.
- تشميت العاطس إذا حمد الله بقوله: (يرحمك الله) فيكون الرد واجبا.
- إبرار قسم المقسم، وهو مستحب، لما فيه من جبر القلب وإجابة طلبه في غير إثم.
- وجوب نصر المظلوم بقدر استطاعته، لأنه من النهي عن المنكر، وفيه رد للشر وإعانة المظلوم وكف الظالم.
- إجابة الدعوة، فإن كانت لعرس وجبت الإجابة إن لم يكن ثَمَّ منكر لا يقدر على إزالته، وإن كانت لغيره من الدعوات المباحة استحبت، وتتأكد بما يترتب عليها من إزالة ضغينة أو دفع شر.
- إفشاء السلام بين المسلمين؛ لأنه دعاء بالسلامة، وعنوان على المحبة والإخاء.
- النهي عن تختم الرجال بخواتم الذهب، فهو محرم.
- النهي عن الشرب بآنية الفضة، وأعظم منه الذهب، وألحق به سائر الاستعمالات إلا ما ورد استثناء في نصوص أخرى.
- النهي عن لبس القسي والحرير، والإستبرق، والديباج للرجال.