حدیث

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کوحاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه «أَنَ النّبي صلى الله عليه وسلم أُتِي بِرَجُل قَدْ شَرِب الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَريدة نحو أربعين»

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کو حاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔

تشریح

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے شراب پی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ایک ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے لگوائے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں نبی کریم ﷺ کی طرح شرابی کوچالیس کوڑے لگوائے۔ لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا، جنگی فتوحات کی بہتات ہوئی اور مسلمانوں کا دیگر قوموں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہوا، تو لوگ بکثرت شراب پینے لگے۔ لہٰذا انھوں نے اہل علم صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ طلب کیا کہ شرابیوں پر کون سی حد نافذ کی جاۓ کہ ان کے لیے سخت تنبیہ کا باعث ہو، جیسا کہ اس جیسے دیگر اہم امور اور اجتہادی مسائل میں عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار ہوا کرتا تھا۔ کیوںکہ ان کے دور خلافت میں شراب پینے والے افراد کی بہتات ہوگئی تھی، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ :حدود میں سب سے ہلکی حد اسی (80) کوڑے مقرر کردیں، جو بہتان تراشی کرنے والے کی حد ہے۔ (انہی کے مشورہ کے مطابق) عمر رضی اللہ عنہ نے اس حد کو اسی کوڑوں میں تبدیل فرمادیا۔ یہ اضافہ در اصل تعزیر ہے اور امام کے اختیار کی چیز ہے۔

تشریح: العربية

شرب رجل الخمر على عهد النبي صلى الله عليه وسلم ، فجلده بجريدة من سَعَفِ النخل نحو أربعين جلدة، وجلد أبو بكر رضي الله عنه شارب خمر في خلافته مثل جلد النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما جاءت خلافة عمر، وكثرت الفتوحات، واختلط المسلمون بغيرهم، كَثُرَ شربهم لها، فاستشار علماء الصحابة في الحد الذي يطبقه عليهم ليردعهم كعادته في الأمور الهامة، والمسائل الاجتهادية، لأن الناس زادوا في عهده من شرب الخمر، فقال عبد الرحمن بن عوف: اجعله مثل أخف الحدود، ثمانين. وهو حد القاذف، فجعله عمر ثمانين جلدة، فهذه الزيادة تعزير راجع للإمام.

  • ثبوت حد الجلد في شرب الخمر.
  • أَنَّ حَدَّهُ على عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- نحو أربعين جَلْدَةٍ، وتَبعَه أبو بكرٍ على هذا.
  • الجَلْدُ فِي حدّ الخمر يجوز أَن يكون بِالجَرِيدِ.
  • أَنَّ عمر-بعد اسْتشارة الصَّحَابَة- جَعَلَهُ ثمانين، وهذه الزيادة تعزير راجع لنظر الإمام.
  • الاجتهاد في المسائل ومشاورة العلماء عليها، وهذا دَأْبُ أهل الحق وطالبي الصواب.
  • جواز القياس والعمل به والاستحسان عند الحاجة إليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید