حدیث

رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أُمُّ سَلَمَة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إلَيْهِمْ، فقال: «ألا إنما أنا بشر، وإنما يأتيني الخصم، فلعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض؛ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ؛ فَأَقْضِي لَهُ، فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من نار، فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ يَذَرْهَا».

ترجمہ

ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا، تو آپﷺ ان جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ میرے پاس کوئی فیصلے کے لیے جھگڑا لےکر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بہ نسبت زیادہ عمدگی سے بات کرے، جس کی بنا پر میں سمجھ لوں کہ وہ سچا ہے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو جس شخص کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں، اسے جان لینا چاہیے کہ یہ دوزخ کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے کچھ جھگڑنے والوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، جو آپ ﷺ کے دروازے کے پاس جھگڑا اور بحث کر رہے تھے۔ آپ ﷺ ان کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے،اور فرمایا:"میں تمھاری ہی طرح ایک انسان ہوں، میں غیب نہیں جانتا اور نہ مجھے مخفی امور کے بارے میں بتایا جاتا ہے، جن کی بنا پر مجھے معلوم ہو جائے کہ تم میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ جن لوگوں کے مابین جھگڑا ہوتا ہے، وہ میرے پاس فیصلہ کرانے آتے رہتے ہیں اور میرا فیصلہ فریقین کے پیش کردہ دلائل اور قسموں پر مبنی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ فصیح و بلیغ اور قادر الکلام ہو اور میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کردوں حالاںکہ اندرونی حقائق کی رو سے اس کا مد مقابل حق پر ہو۔ تو جان لو کہ میرا فیصلہ ظاہری امور پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ باطنی امور پر۔ چنانچہ میرے فیصلے کی وجہ سے کوئی حرام شے حلال نہیں ہوجاتی۔ اس لیے اگر میں کسی کو کسی دوسرے کا حق دے دوں، حالاںکہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ تو میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ اس کا عقاب اسی کو ہو گا اور اللہ تعالی ظالم لوگوں کی گھات میں رہتا ہے۔

تشریح: العربية

سمع النبي صلى الله عليه وسلم أصوات خصوم مختلطة؛ لما بينهم من المنازعة والمشاجرة عند بابه، فخرج إليهم؛ ليقضي بينهم، فقال: إنما أنا بشر مثلكم، لا أعلم الغيب، ولا أخبر ببواطن الأمور؛ لأعلم الصادق منكم من الكاذب، وإنما يأتيني الخصم لأحكم بينهم، وحكمي مبني على ما أسمعه من حجج الطرفين وبيِّناتهم وأيْمَانِهِم، فلعل بعضكم يكون أبلغ وأفصح وأبينَ من بعض؛ فأحسب أنه صادق مُحِق؛ فأقضي له، مع أن الحق -في الباطن- بجانب خصمه، فاعلموا أن حكمي في ظواهر الأمور لا بواطنها، فلن يحل حراما؛ ولذا فإن من قضيت له بحق غيره وهو يعلم أنه مبطل، فإنما أقطع له قطعة من النار، فليحملها إِن شاء، أو ليتركها، فعقاب ذلك راجع عليه، والله بالمرصاد للظالمين.

  • أن الصحابة بشر ليسوا بمعصومين، وأنه يحصل بينهم الخصومة، لكنهم أفضل البشر بعد الأنبياء.
  • أَنَّ النَّبي -صلى الله عليه وسلم- لا يعلمُ الغَيْبَ والأُمُورَ الباطِنَة إلا بِتَعْلِيمِ اللهِ لَهُ، وفي ذلك ردٌّ على الذين يغلون فيه.
  • فِيهِ تَسْليَةٌ وَعَزَاءٌ لِلحُكَّام، فإنَّهُ إِذَا كَانَ النبي-صلى الله عليه وسلم- قدْ يَظُن غَيرَ الصَّوَابِ؛ لقُوةِ حُجَّةِ الْخَصْم فيَحكُم له، فإن غيره من باب أولى وأحرى.
  • أن النبي -صلى الله عليه وسلم- إنما كُلِّفَ بِالْحُكم بِالظَّاهِر.
  • يُؤخَذُ منهُ العمل بالظَنِّ، وبناء الحكم عليه، حيث قال: فأحسب أنه صادقٌ، وهو أمر مجمعٌ عليه بالنسبة للحاكم والمفتي.
  • التَقْييدُ بِ (المسْلِم) في قوله: (بحق مسلم) خَرَجَ مَخْرَجَ الْغَالِب، وإِلا فَمثله الذِّمِّي والمعَاهَد.
  • أنَّ حُكْمَ الحاكم لا يُحِيلُ مَا في البَّاطِن، ولا يحِلُّ حَرَاماً.
  • قوله: "فليحملها أو ليذرها" فيه تهديد شديد ووعيد أكيد على من أخذ أموال الناس بالدعاوى الكاذبة، والحيل المحرمة، فهذا التعبير شبيه بقوله تعالى {اعملوا ما شئتم}.
  • يُؤْخذُ منه مَوعِظةُ القاضي للخُصوم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید