حدیث

اللہ تعالیٰ، یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عباسٍ رضي الله عنهما قال: بلغَ عمرَ رضي الله عنه أن فلانًا باعَ خمرًا. فقال: قاتلَ الله فلانًا! ألم يعلم أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: "قاتلَ الله اليهودَ، حُرِّمت عليهم الشُّحومُ، فجَمَلُوها، فباعُوها".

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فلاں کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کرے! کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا“۔

تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شخص نے حیلہ سازی کے ارادے سے شراب فروخت کرکے نفع خوری کی تاہم اس نے اس کو پیا نہیں۔ ایسی حیلہ سازی بالکلیہ حرام ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ویسی ہی بد دعا دی، جیسی نبی ﷺ نے حیلہ سازی کرنے والے یہودیوں کو دی تھی۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو برباد کردے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ حیلہ سازی کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ بازی ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انھوں نے اس سے نفع خوری کے لیے حیلہ سازی کا سہارا لیا؛ کیوں کہ انھوں نے چربی کی صفت و کیفیت میں تبدیلی کردی، اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت کو کھایا اور -حیلہ سازی اور دھوکہ بازی اپناتے ہوئے- انھوں نے کہا: "ہم نے حرام کردہ چربی تونہیں کھائی" اور اس گمان میں رہے کہ وہ اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور اللہ انھیں اس چال بازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے۔

تشریح: العربية

بلغ عمر بن الخطاب رضي الله عنه : أن رجلا أراد التحيُّل على الانتفاع بالخمر من غير شربها فباعها. وهذه حيلة مكشوفة محرمة، ولذا فإن عمر رضي الله عنه دعا عليه دعاء كدعاء النبي صلى الله عليه وسلم على اليهود المتحيلين فقال: قاتله الله، ألم يعلم أن التحيُّل حرام؟ لأنه مخادعة اللَه ورسوله، فقد قال النبي صلى الله عليه وسلم : "قاتل الله اليهود، لما حرم الله عليهم الشحوم، عمدوا إلى الانتفاع بها بالحيلة، إذ غَيَّروا الشحم عن صفته، فأذابوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه وقالوا -تحيُّلًا وخداعًا-: "لم نأكل الشحم المحرم علينا" وهم يخادعون الله وهو خادعهم.

  • تحريم المعاملة بالخمر، ببيع، أو شراء، أو عمل، أو إعانة بأي نوع كان.
  • تحريم الحيل، فإن الله -تعالى- لما حرم الخمر، حرم ثمنه الذي هو وسيلة إليه.
  • من باع الخمر فقد شابه اليهود الذين حرمت عليم الشحوم، فأذابوها وباعوها، وأكلوا ثمنها، حيلةً ومخادعة.
  • أن كل محرم فثمنه حرام؛ لأنه لا يباح التوصل إليه بأي طريق، فالوسائل لها أحكام المقاصد، وهذه قاعدة نافعة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید