حدیث

جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن الأشعث بنِ قيسٍ قال: كان بيني وبين رجُلٍ خُصومةٌ في بئرٍ، فاخْتصمْنا إلى رسولِ الله صلى الله عليه وسلم فقال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "شاهِداك، أو يمينهُ"، قلتُ: إذًا يحلِف ولا يُبالي! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "مَن حَلف على يمينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بها مالَ امرىءٍ مُسلمٍ، هو فيها فاجِرٌ، لَقِيَ الله وهو عليه غضبانُ".

ترجمہ

اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا“۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا“۔

تشریح

اس حدیث میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے قصہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کا اور ان ایک شخص سے ایک کنویں کو لے کر جھگڑا پیدا ہوگیا، تو وہ اس جھگڑے کے تصفیے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا!“ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ ان کا مخالف قسم کھالے گا اور اسے اس کے گناہ کی چنداں پروا نہ ہوگی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس امکان کا اظہار بھی کردیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے...“۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت قسم کی وعید ہے، جو کسی شخص کا مال ناحق ہڑپ لیتے ہیں، وہ اپنے گناہ آمیز جھگڑے اور جھوٹی قسم کے ذریعے اس پر قبضہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، تو وہ ان پر سخت غضب ناک ہوگا اور جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگیا، اس کی ہلاکت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

تشریح: العربية

هذا الحديث تضَمَّن قصة الأَشْعَث بن قَيْس حين تشاجَرَ مع خَصْم لَهُ بِسبب بِئْرٍ فتحَاكَمَا إلى رسولِ الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم :" شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ"، فظَن الأشعَث بنُ قَيْسٍ أنّ خَصْمَهُ يَحْلِف ولا يهمُّه ما الإثمُ في ذلك فأخْبَرَ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم بذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ......الحديث وفي هذا الحديث وعيد شديد لمن اقتطع مال امرئ بغير حق، وإنما اقتطعه وأخذه بخصومته الفاجرة، ويمينه الكاذبة الآثمة، فهذا يلقى الله وهو عليه غضبان، ومن غضب اللَه عليه فهو هالك.

  • أن البينة على المدعي واليمين على من أنكر، هي القاعدة الشرعية في الخصومات.
  • ثبوت الحق بالشاهدين، فإن لم توجد البينة عند المدعِي، فعلى المدعى عليه باليمين.
  • تحريم اليمين (الغموس) وهي الكاذبة التي يقتطع بها الحالف حق غيره، وهي من الكبائر، التي تعرض صاحبها لغضب الله-تعالى- وعقابه.
  • أن حكم الحاكم يرفع الخلاف الظاهر فقط، أما الباطن، فلا يزال باقياً فعلى هذا لا يحل المحكوم به، ما لم يكن مباحا للمحكوم له.
  • أنَّ يمين الفاجر تُسقِطُ عنه الدَّعوى وأن فجوره في دينه لا يوجب الحجر عليه ولا إبطال إقراره، ولولا ذلك لم يكن لليمين معنى.
  • البداءة بسماع الحاكم من المدعي، ثم من المدعى عليه: هل يقر أو ينكر؟ ثم طلب البينة من المدعي إن أنكر المدعى عليه، ثم توجيه اليمين على المدعى عليه إن لم يجد بينة.
  • موعظة الحاكم للخصوم، خصوصاً عند إرادة الحلف.
  • تغليظ حقوق المسلمين، في قليل الحق وكثيره.
  • أن اليمين الغموس ونقض العهد، لا كفارة فيهما؛ لأنهما أعظم وأخطر من أن تحلهما الكفارة، فلا بد من التوبة النصوح والتخلص من حقوق العباد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید