حدیث

”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ، فَلَمَّا وَضَعَ القَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ -كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَمْ أَفْعَلْ هَذَا-، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ تَلْبَسُوا الحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ، وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ».

ترجمہ

عبدالرحمن بن ابو لیلی سے روایت ہے کہ وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران انھوں نے پینے کے لیے پانی مانگا، تو ایک مجوسی نے ان کو پانی پیش کیا۔ جب اس نے پانی کا پیالہ ان کے ہاتھ میں رکھا، تو انھوں نے اسے اس سے مار دیا اور فرمایا : اگر میں اسے ایک دو بار اس سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا - گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ: میں نے ایسا یوں ہی نہیں کیا - ، لیکن میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں کو ہر طرح کے ریشمی کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ جب کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے اور پینے سے منع کیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا کہ یہ چيزیں قیامت کے دن ایمان والوں کو بطور خاص نصیب ہوں گی۔ کیوں کہ وہ ان سے دنیا میں اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بچتے رہے ہيں۔ جب کے اس کے برخلاف کافروں کو آخرت میں یہ چیزیں نصیب نہيں ہوں گی۔ کیوں کہ وہ دنیوی زندگی میں اللہ کے حکم کو بالائے طاق رکھ کر ان چیزوں سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔

فوائد

  • مردوں پر ریشم اور دیباج کے کپڑے حرام ہيں اور انھیں پہننے والوں کو بڑی سخت وعید سنائی گئی ہے۔
  • عورتوں کے لیے ریشم اور دیباج کے کپڑے حلال ہيں۔
  • سونے اور چاندی کی پلیٹوں اور برتنوں میں کھانا اور پینا مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے۔
  • یہاں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بڑے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ انھوں نے اسے ایک سے زیادہ مرتبہ سونے اور چاندی کے برتن کے استعمال سے منع کیا تھا، لیکن اس نے اپنی روش نہيں بدلی۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم الرجالَ عن لُبس الحرير بأنواعه. ونهى الرجالَ والنساءَ عن الأكل والشرب في آنية وأوعية الذهب والفضة. وأخبر بأنها خالصة للمؤمنين يوم القيامة؛ لأنهم اجتنبوها في الدنيا طاعة لله، وأما الكفار فليست لهم في الآخرة؛ لأنهم تعجَّلوا طيباتِهم في حياتهم الدنيا باتخاذهم لها، ومعصيتهم أمر الله.

  • تحريم لبس الحرير والديباج على الذكور، والوعيد الشديد على مَن لَبِسه.
  • يباح للنساء لبسُ الحرير والديباج.
  • تحريم الأكل والشرب في صحاف الذهب والفضة وآنيتهما على الذكور والإناث.
  • تغليظ حذيفة رضي الله عنه في الإنكار، وعلل ذلك بأنَّه نهاه أكثَرَ مِن مَرَّةٍ عن استعمالِ آنِيَةِ الذَّهَبِ والفِضَّةِ، لكنَّه لَمَّا لم يَنْتَهِ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید