ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عَنْ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ».
ترجمہ
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ آخرت میں نہيں پہنے گا۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشمی لباس پہن لیا اور توبہ کیے بغیر مر گیا، وہ بطور سزا آخرت میں اسے پہننے سے محروم رہے گا۔
فوائد
- ریشم سے مراد خالص قدرتی ریشم ہے۔ مصنوعی ریشم اس حدیث میں شامل نہيں ہے۔
- مردوں پر ریشمی لباس حرام ہے۔
- ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت کے اندر اسے بچھانا بھی شامل ہے۔
- مردوں کے لیے کپڑے میں کچھ ریشم کے استعمال کی اجازت ہے، جس کی چوڑائی دو سے چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو اور کپڑے میں بطور کنارا اور نقش ونگار استعمال ہوا ہو۔
تشریح: العربية
بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنه مَن لَبس الحريرَ من الرجال في الدنيا لم يَلبَسها في الآخرة إذا لم يتب عقابًا له.
- المَقصود بالحرير الحرير الخالِص الطبيعي، أما الحرير الصناعي فلا يشمله الحديث.
- تحريم لبس الحرير على الرجال.
- النهي عن لبس الحرير يعم لُبسه وافتراشه.
- يسمح للرجال ببعض الحرير في الثياب بما لا يُجاوِز عرضُه إصبعين إلى أربعة أصابع تتخذ أعلامًا أو حاشية للثوب.