حدیث

اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولا ــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے او ر تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هُريرة -رضي اللهُ عنه- مرفوعًا: «لو أن رجلا -أو قال: امْرَأً- اطَّلَعَ عليك بغير إِذْنِكَ؛ فَحَذَفْتَهُ بحَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عينه: ما كان عليك جُنَاحٌ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولاــــــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں“۔

تشریح

نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کے دروازے کے پیچھے سے یا دیوار وغیرہ کے اوپر سے جھانکے اور وہ کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے یا پھر اس کی آنکھ میں کوئی آہنی چیز گھونپ دے تو اس آنکھ تلف کرنے والےکو نہ تو کوئی گناہ ہو گا اور نہ ہی اس پر اس کا قصاص آئے گا کیوں کہ زیادتی اور جرم کا ارتکاب اس جھانکنے والے شخص کی طرف سے ہوا ہے، جس نے ایسا کیا۔

تشریح: العربية

أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أنه إذا اطلع إنسانٌ على أحدٍ بغير إذنه من وراء بابه، أو من فوق جداره، أو غير ذلك، ففقأ عينه بأن يرمي حصاة؛ فتصيب عينه، أو أن يطعن عينه بحديدة، فليس على هذا المتلِف إثمٌ ولا قصاصٌ؛ لأن الناظر هو المتعدي والجاني بفعله هذا.

  • تحريم الاطِّلاع على أحوال الناس في منازِلهم، والنَّظر إليهم والاستماعِ إِلى كَلامِهِم.
  • سُقُوطُ حُرْمَةِ مَنْ فَعَلَ ذَلِك، وإِهْدَارُ العضْو الذي يطَّلع بِهِ على أحْوَالِهِم.
  • أَنَّ لصاحب البَيتِ أن يَفْقَأ عينه وليس عليه إثمٌ ولا قَصاص.
  • ظاهِرُ الحديثِ أنَّ صَاحِبَ الدَّارِ لا يَحتاج إلى إنْذَارِه.
  • أنَّه لا يَلْتَحِق بِالنَّظَرِ غَيره كَالسَّمع؛ لأنَّه لا يُمْكِن دفْعُه كَالنَّظْر.
  • يُشْتَرطُ قَبْلَ إِهْدَارِ عَيْنِ النَّاظِرِ أنْ يكون صاحِب الدَّار قد احْتَاطَ بِوجُود ساتِر.
  • يَنْبَغِي لِلمُسْتأْذِنِ أَنْ يَقِفَ عَلى جَانِبِ البابِ ولا يُقَابِل فتحةَ الباب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید