حدیث

جو شخص (میدانِ جہاد میں) کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا (مال) بھی اسی (قتل کرنے والے )کے لیے ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه قال: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُول الله صلى الله عليه وسلم إلَى حُنَيْنٍ -وَذَكَرَ قِصَّةً- فَقَالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ» قَالَهَا ثَلاثاً.

ترجمہ

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین کے لیے نکلے (پھر سارا قصہ بیان کیا) اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی موجود ہو تو اس سے چھینا ہوا مال بھی اسی (قتل کرنے والے) کے لیے ہے“۔ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔

تشریح

نبی کریم ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا کہ جو شخص کسی(کافر) کو قتل کرے گا اور اس بات پر اس کے پاس کوئی گواہ یا دلیل ہو گی تو جو کچھ اس سے چھینا ہوگا وہ اسی کا ہوگا۔ یعنی مقتول کے کپڑے، اسلحہ اور وہ سواری جس پر اسے قتل کیا تھا۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک (کافر) شخص کو قتل کیا اور جو ان کے اردگرد موجود تھے ان سے کہا کہ: اس شخص کو میں نے قتل کیا ہے اور جس جس کو بھی پتہ ہے میں اسے قسم دیتا ہوں کہ وہ میرے لیے گواہی دے۔ یہ بات انھوں نے تین مرتبہ کہی۔

تشریح: العربية

أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم حنين: من قتل قتيلاً له عليه شاهد أو دليل فله سلبه، أي: له ثياب المقتول وسلاحه، ودابته التي قاتل عليها، وأن أبا قتادة قتل رجلاً، وقال لمن حوله: إني قتلت رجلاً، فأقسم على من عرف ذلك أن يشهد لي قالها ثلاثاً.

  • أن من قتل قتيلاً وأقام على قتله إياه بَينةً، فله سلبه الذي تقدم تعريفه.
  • أن السلب للقاتل، سواء قاله قائد الجيش قبل القتال أو بعده.
  • إعطاء القاتل سلب قتيله من باب التشجيع على قتال الأعداء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید