حدیث

رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے سوائے دو یا تین یا چار انگشت کے برابر۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن لُبُوسِ الحَرِيرِ إلا هكذا، ورَفَعَ لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أُصْبُعَيْهِ: السَّبَّابَةَ، والوُسْطَى». ولمسلم «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لُبْس ِالحَرِيرِ إلا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ، أو ثلاثٍ، أو أربعٍ».

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا سوائے اتنی مقدار کے۔ (یہ فرما کر) رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اپنی دو انگلیوں یعنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو اوپر اٹھایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا سوائے اتنی مقدار کے جو دو یا تین یا چار انگشت کے برابر ہو۔

تشریح

رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو ریشم پہننے سے منع فرمایا ماسوا اس مقدار کے جسے اس ممانعت سے مستثنیٰ کیا گیا ۔ متفق علیہ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی) حدیث میں جس مقدار کو مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ دو انگشت کے برابر ہے، جب کہ صحیح مسلم کی روایت میں (دو) یا تین یا چار انگشت کا استثناء ہے۔ جو مقدار زیادہ ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ چنانچہ لباس میں چار انگشت کے برابر ریشم کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

تشریح: العربية

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى الذكور عن لبس الحرير إلا ما استثني، والمستثنى في الحديث المتفق عليه أصبعين، وفي رواية مسلم أو ثلاث أو أربع، فيؤخذ بالأكثر؛ فلا بأس من مقدار أربعة أصابع من الحرير في اللباس.

  • يؤخذ من الحديث تحريم لبس الحرير على الذكور من أمة محمد -صلى الله عليه وسلم- إلا ما استثني.
  • فيه استثناء قدر الإصبعين أو الثلاث أو الأربع، إذا كان تابعًا لغيره، أما المنفرد، فلا يحل منه، قليله ولا كثيره كخيط مسبحة، أو ساعة أو نحو ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید