ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «بَينَمَا النَّاس بِقُبَاء في صَلاَة الصُّبحِ إِذْ جَاءَهُم آتٍ، فقال: إِنَّ النبِيَّ صلى الله عليه وسلم قد أُنزِل عليه اللَّيلةّ قرآن، وقد أُمِرَ أن يَستَقبِل القِبْلَة، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وكانت وُجُوهُهُم إلى الشَّام، فَاسْتَدَارُوا إِلى الكَّعبَة».
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبیﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ لہذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کرليں۔ (اس وقت) ان لوگوں کے چہرے شام کی طرف تھے، تو (يہ سن کر) سب کعبہ کی طرف گھوم گئےـ
تشریح
ايک صحابي مدينہ کے نواح میں مسجد قباء کی طرف گئے تو پتہ چلا کہ وہاں کے لوگوں کواب تک قبلہ کی تبديلی کا علم نہيں ہوا ہے اور وہ لوگ ابھی بھی قبلۂ اول (بيت المقدس) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے ہيں، تو انہيں بتلايا کہ قبلہ کو کعبہ کی طرف پھیر دیا گيا ہے، اور اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، صحابی رضی اللہ عنہ کا اشارہ اللہ تعالیٰٰ کے اس فرمان کی طرف تھا: { قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ}[البقرة: 144] ''ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب آپ کو ہم اس قبلہ کی طرف متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں۔''(سورہ بقرہ:144) اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہء کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے۔ لہذا ان لوگوں نے دین کی گہری سمجھ، تيز فہمی اور صحيح فہم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پہلے قبلہ بيت المقدس کی طرف سے اپنا رخ موڑ کر اپنے دوسرے قبلہ خانہءکعبہ کی طرف کرليا۔
تشریح: العربية
خرج أحد الصحابة إلى مسجد قباء بظاهر المدينة، فوجد أهله لم يبلغهم نسخ القبلة، ولا زالوا يصلون إلى القبلة الأولى، فأخبرهم بصرف القبلة إلى الكعبة، وأنَّ النبي صلى الله عليه وسلم قد أُنزل عليه قرآن في ذلك -يشير إلى قوله تعالى:{ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ}، [البقرة: 144] وأنه صلى الله عليه وسلم استقبل الكعبة، فمن فقههم وسرعة فهمهم وصحته استداروا عن جهة بيت المقدس -قبلتهم الأولى- إلى قبلتهم الثانية، الكعبة المشرفة.
- القبلة: أوَّل الهجرة كانت إلى بيت المقدس، ثم صرفت إلى الكعبة.
- أن قبلة المسلمين، استقرت على الكعبة المشرفة، فالواجب استقبال عينها عند مشاهدتها واستقبال جهتها عند البعد عنها.
- أن ما يؤمر به النبي -صلى الله عليه وسلم- يلزم أمته إلا بدليل.
- أفضل البقاع: هو بيت الله؛ لأن القبلة أقرت عليه، ولا يقر هذا النبي العظيم وهذه الأمة المختارة إلا على أفضل الأشياء.
- جواز النسخ في الشريعة، خلافا لليهود ومن شايعهم من منكري النسخ.
- أنَّ من استقبل جهة في الصلاة ثم تبين له الخطأ أثناء الصلاة استدار ولم يقطعها، وما مضى من صلاته صحيح.
- أنَّ الحكم لا يلزم المكلف إلا بعد بلوغه، فإن القبلة حُوِّلت وبعد التحويل وقبل أن يبلغ أهل قباء الخبر صلوا إلى بيت المقدس، ولم يعيدوا صلاتهم.
- جواز تنبيه من ليس في الصلاة لمن هو فيها، وإن استماع المصلي لكلامه لا يضر صلاته.
- خبر الواحد الثقة -إذا حفَّت به قرائن القبول- يصدق ويعمل به ويفيد العلم.
- قبول الخبر عن طريق الهاتف واللاسلكي ونحوهما في دخول شهر رمضان أو خروجه، وغير ذلك من الأخبار المتعلقة بالأحكام الشرعية؛ لأنه وإن كان نقل الخبر من فرد إلى فرد، إلا أنه قد حف به من قرائن الصدق، مما يجعل النفس تطمئن ولا ترتاب في صدق الخبر، والتجربة المتكررة أيدت ذلك.