ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها قالت: "كَانَت يَدُ رسُولِ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- اليُمنَى لِطُهُورِهِ وطَعَامِهِ، وكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ، ومَا كَانَ مِنْ أَذَى". عن حفصة رضي الله عنها "أَنَّ رَسُولَ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ، وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذَلِك".
ترجمہ
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا دایاں ہاتھ وضو اور کھانا کھانے کے لیے اور بایاں ہاتھ قضائے حاجت اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔ ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے داہنے ہاتھ کو کھانے، پینے اور کپڑے پہنے کے لیے استعمال کرتے اور بائیں ہاتھ کو اس کے علاوہ کاموں کے لیے استعمال کرتے تھے۔
تشریح
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ نبی ﷺ کن کاموں میں اپنا دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے اور کن میں بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ کہا جن کاموں میں گندگی ہوتی جیسے استنجاء کرنا، استنجاء میں پتھر کا استعمال، ناک میں پانی ڈالنا اور ناک کو صاف کرنا جیسے کاموں میں جن میں گندگی ہوتی آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال کیا کرتے تھے۔ اور ان کے علاوہ کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرتے تھے۔ اس میں دائیں ہاتھ کی تکریم ہے کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں سے افضل ہے۔ اس حدیث کی رو سے ان تمام کاموں میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا مستحب ہے جو قابلِ تکریم ہوں۔ ”لِطُهُورِهِ “ اس کا معنی یہ ہے کہ جب نبی ﷺ طہارت حاصل کرتے تو آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے آغاز کرتے۔ چنانچہ آپ ﷺ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے دھوتے تھے اور اسی طرح آپ ﷺ دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں سے پہلے دھویا کرتے تھے۔ جب کہ دونوں کان ایک ہی عضو شمار ہوتے ہیں جو سر کا حصہ ہیں۔ چنانچہ ان کو اکھٹے ہی مسح کیا جائے گا بجز اس کے کہ ایک ہاتھ سے مسح کرنا ہو۔ اس صورت میں ضرورت کے تحت دائیں کان سے مسح کا آغاز کیا جائے گا۔ ”وطَعَامِهِ“ یعنی جب آپ ﷺ کھانا کھایا کرتے تھے۔ ”وَكَانَت اليُسْرَى لِخَلاَئِهِ “یعنی قضائے حاجت کے وقت استنجاء کرنے، پتھر اٹھانے اور گندگی کے ازالے کے لیے بائیں کو استعمال کرتے تھے۔ ”ومَا كَانَ مِنْ أَذَى“جیسے تھوک اور بلغم وغیرہ کو دور کرنے کے لیے۔چیچڑی وغیرہ کو دور کرنا بھی اسی میں آتا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث دراصل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کی تصدیق کر رہی ہے جس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو کام قابلِ تکریم ہوتے ان میں آپ ﷺ کا طریقہ کار دائیں ہاتھ کو استعمال کرنا تھا اور جن کاموں میں گندگی کا عمل دخل ہوتا تھا ان کاموں میں آپ ﷺ بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے جیسے استنجاء کرتے ہوئے یا استنجاء کے لیے پتھر اٹھاتے ہوئے وغیرہ۔
تشریح: العربية
بيَّنت عائشة رضي الله عنها ، ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يستعمل فيه اليمين، وما كان يستعمل فيه اليسار، فذكرت أن الذي يستعمل فيه اليسار ما كان فيه أذى؛ كالاستنجاء، والاستجمار، والاستنشاق، والاستنثار، وما أشبه ذلك، كل ما فيه أذى فإنه تقدم فيه اليسرى، وما سوى ذلك؛ فإنه تقدم فيه اليمنى؛ تكريمًا لها؛ لأن الأيمن أفضل من الأيسر. وهذ الحديث داخل في استحباب تقديم اليمنى فيما من شأنه التكريم فقولها -رضي الله عنها-. قولها: "لطهوره": يعني إذا تطهر يبدأ باليمين، فيبدأ بغسل اليد اليمنى قبل اليسرى، وبغسل الرجل اليمنى قبل اليسرى، وأما الأذنان فإنهما عضوٌ واحدٌ، وهما داخلان في الرأس، فيمسح بهما جميعًا إلا إذا كان لا يستطيع أن يمسح إلا بيد واحدة، فهنا يبدأ بالأذن اليمنى للضرورة. قولها: "وطَعَامِهِ": أي تناوله الطعام. "وكانت يده اليسرى لخلائه": أي لما فيه من استنجاء وتناول أحجار وإزالة أقذار. "وما كان من أذى" كتنحية بصاق ومخاط وقمل ونحوها. وحديث حفصة مؤكد لما سبق من حديث عائشة، الذي جاء في بيان استحباب البداءة باليمين فيما طريقه التكريم، وتقديم اليسار فيما طريقه الأذى والقذر؛ كالاستنجاء والاستجمار وما أشبه ذلك.
- الحديث مؤكد لقاعدة الشريعة: في استحباب البداءة باليمين فيما فيه التكريم، وتقديم اليسار فيما فيه الأذى والقذر.
- اليد اليسرى لا تستعمل إلا في إزالة الخبيث، وكل ما كان لا تكريم فيه.