ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «لَمَّا قَدِم رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- وأصحابه مكة، فقَال المُشرِكُون: إِنَّه يَقدَمُ عَلَيكُم قَومٌ وَهَنَتهُم حُمَّى يَثرِب، فَأَمَرَهُم النَّبيُّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- أن يَرمُلُوا الأَشوَاطَ الثلاَثَة، وأن يَمشُوا ما بَين الرُّكنَين، ولم يَمنَعهُم أَن يَرمُلُوا الأَشوَاطَ كُلَّها: إلاَّ الإِبقَاءُ عَليهِم».
ترجمہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ”جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایسے لوگ آئے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ منورہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ چنانچہ نبیﷺ نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں یمانی رکنوں کے درمیان حسب معمول چلیں اور آپ ﷺ نے ان پر شفقت و نرمی کرتے ہوئے یہ حکم نہیں دیا کہ سب پھیروں میں رمل کریں۔“
تشریح
نبی ﷺ ہجرت کے چھٹویں سال صحابہ کی کثیر تعداد کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مکہ آئے، تو کفار قریش آپ سے لڑنے اور آپ کو اللہ کے گھر سے روکنے کے لئے نکلے، چناں چہ ان کے درمیان صلح ہوئی جس کے مضمون میں یہ تھا کہ نبی ﷺ اس سال اپنے اصحاب کے ہمراہ واپس لوٹ جائیں اور اگلے سال عمرہ کی نیت سے آئیں اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں، چناں چہ سن سات ھجری میں جب وہ دوبارہ عمرہ کی قضا کے لئے آئے تو مشرکین نے -تسکین خاطر اور بطور ہنسی اور ٹھٹھا- آپس میں ایک دوسرے سے کہنا شروع کیا کہ تمہارے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جنہیں یثرب کے بخار نےتوڑ دیا اور کمزور بنا دیا ہے۔ جب نبی ﷺ کو ان کی یہ بات پہونچی تو آپ ﷺ نےان کے جواب میں اور ان کو برانگیختہ کرنے کے لئے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ تیز چلیں مگر رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیانی حصہ میں عام چال چلیں۔ یہ حکم صحابہ کے ساتھ نرمی اور شفقت کے باب سے تھا جب کہ وہ دونوں رکنوں کے درمیان ہوں اور وہ مشرکین انہیں نہ دیکھ سکیں جو"قعيقعان" نامی پہاڑ پر اس لئے چڑھ آئے تھے کہ وہ مسلمانوں کو طواف کرتے ہوئےدیکھ سکیں۔ لیکن تیز چال نے انہیں آگ بگولہ کردیا اور وہ یہاں تک کہنے لگے کہ یہ سب تو ہرن کے مانند ہیں۔ اس طرح دلکی چال طوافِ قدوم میں سنت جاریہ قرار پائی۔ تاکہ اپنے گزرے ہوئے اسلاف کے واقعہ کو یاد کیا جائے اور ان کے قابل تعریف مواقف اور زبردست صبر اور جو کچھ دین کی مدد اور اللہ کے کلمہ کی بلندی کے لئے انہوں نے اچھے کام انجام دئے ہیں ان میں ان کی اقتدا کی جائے۔ اللہ ہمیں ان کی پیروی اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ دنوں یمانی رکنوں کے درمیان رمل نہیں کرنے کا حکم منسوخ ہے اس لیے کہ حجۃ الوداع میں نبیﷺ پورا طواف رمل کیے۔ امام مسلم نے جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں اپنی رفتار معمول کے مطابق رکھی۔
تشریح: العربية
جاء النبي صلى الله عليه وسلم سنة ست من الهجرة إلى مكة معتمرًا، ومعه كثير من أصحابه، فخرج لقتاله وصده عن البيت كفار قريش، فحصل بينهم صلح، من مواده أن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يرجعون في ذلك العام، ويأتون في العام القابل معتمرين، ويقيمون في مكة ثلاثة أيام، فجاءوا في السنة السابعة لعمرة القضاء. فقال المشركون، بعضهم لبعض -تشفيا وشماتة-: إنه سيقدم عليكم قوم قد وهنتهم وأضعفتهم حمى يثرب. فلما بلغ النبي صلى الله عليه وسلم قولهم، أراد أن يرد قولهم ويغيظهم، فأمر أصحابه أن يسرعوا إلا فيما بين الركن اليماني والركن الذي فيه الحجر الأسود فيمشوا، رفقًا بهم وشفقة عليهم، حين يكونوا بين الركنين لا يراهم المشركون، الذين تسلقوا جبل "قعيقعان" لينظروا إلى المسلمين وهم يطوفون فغاظهم ذلك حتى قالوا: إن هم إلا كالغزلان، فكان هذا الرمل سنة متبعة في طواف القادم إلى مكة، تذكرا لواقع سلفنا الماضين، وتأسيًا بهم في مواقفهم الحميدة، ومصابرتهم الشديدة، وما قاموا به من جليل الأعمال، لنصرة الدين، وإعلاء كلمة الله، رزقنا الله اتباعهم واقتفاء أثرهم. والمشي بين الركنين وترك الرمل منسوخ؛ لنه في حجة الوداع رمل من الحجر إلى الحجر، روى مسلم عن جابر وابن عمر رضي الله عنهم «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رمل من الحجر إلى الحجر ثلاثًا، ومشى أربعًا».
- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- وأصحابه، رملوا في الأشواط الثلاثة الأول ماعدا ما بين الركنين، فقد رخص لهم في تركه، إبقاء عليهم، وذلك في عمرة القضاء.
- استحباب الرمل في كل طواف وقع بعد قدوم، سواء أكان لنسك أم لا ففي صحيح مسلم: "كان ذلك إذا طاف الطواف الأول".
- إظهار القوة والجلد أمام أعداء الدين، إغاظة لهم، وتوهينا لعزمهم، وفتا في أعضادهم.
- من الحكمة في الرمل الآن تذكر حال سلفنا الصالح، في كثير من مناسك الحج، كالسعي، ورمي الجمار والهدي وغيرها.
- الرمل مختص بالرجال دون النساء، لأنه مطلوب منهن الستر.
- لو فات الرمل في الثلاثة الأول، فإنه لا يقضيه، لأن المطلوب في الأربعة الباقية، المشي، فلا يخلف هيئتهن، فتكون سنة فات محلها.
- جواز حِكاية قول الغير، وإن كان خلاف المشروع، في قوله: "وهنتهم حمى يثرب".
- شدة عداوة المشركين للمسلمين، وإظهار الشماتة بهم.
- شفقة النبي -صلى الله عليه وسلم- على أمته.