ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: «طَافَ النبيُّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ على بَعِير، يَستَلِم الرُّكنَ بِمِحجَن».
ترجمہ
عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”نبیﷺ حجۃُ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور آپ ﷺ رکن کا ایک چھڑی کے ذریعے بوسہ دے رہے تھے“۔
تشریح
نبی ﷺ نے حجۃُ الوداع کے موقع پر طواف فرمایا۔ آپ ﷺ کے پاس بہت زیادہ لوگ جمع تھے۔ ان میں سے کچھ تو یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آپﷺ کیسے طواف کر رہے ہیں اور کچھ آپ ﷺ کی کریم ذات کو دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے آپ ﷺ کے پاس بھیڑ لگا دیا۔ اپنی امت پر کمالِ شفقت اور ان کے ساتھ مساویانہ سلوک رکھنے کے لیے آپ ﷺ ایک اونٹ پر سوار ہو گیے اور اس پر طواف کرنے لگے تاکہ لوگ یکساں طور پر آپ ﷺ کو دیکھ سکیں۔ آپ ﷺ کے پاس ایک عصا تھا جس کا سرا مڑا ہوا تھا اور آپ ﷺ اس کے ساتھ رکن کو چھو رہے تھے اور عصا ہی کا بوسہ لے رہے تھے جیسا کہ اس حدیث کی مسلم شریف والی روایت میں ہے۔
تشریح: العربية
طاف النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، وقد تكاثر عليه الناس: منهم من يريد النظر إلى صفة طوافه، ومنهم من يريد النظر إلى شخصه الكريم؛ فازدحموا عليه، ومن كمال رأفته بأمته ومساواته بينهم: أن ركب على بعير، فأخذ يطوف عليه؛ ليتساوى الناس في رؤيته، وكان معه عصا محنية الرأس، فكان يستلم بها الركن، ويقبل العصا كما جاء في رواية مسلم لهذا الحديث.
- جواز الطواف راكبا مع العذر؛ لأن المشي أفضل، وإنما ركب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- للمصلحة، وهي أن الناس قد غشوه وتكاثروا عليه، فأراد أن يستفيد ويستفيدوا بأن يكون في مكان مرتفع.
- استحباب استلام الركن باليد إن أمكن، وإلا فبعصا ونحوها، بشرط ألا يؤذي به الناس.
- السنة أن يستلم الركن ويقبل يده، وإذا لم يستطع أن يستلمه بيده استلمه بشيء، وقبل ذلك الشيء.
- إظهار العالم أفعاله مع أقواله؛ لتحصل به القدوة الكاملة والتعليم النافع.
- استدل بالحديث على طهارة بول ما يؤكل لحمه، من حيث إنه لا يؤمن بول البعير في أثناء الطواف في المسجد، ولو كان نجسًا، لم يعرض النبي -صلى الله عليه وسلم- المسجد للنجاسة.
- كمال خلق النبي وشفقته على أمته -صلى الله عليه وسلم-.
- جواز إدخال الحيوان الطاهر إلى المسجد، إذا لم يترتب على إدخاله أذية للآخرين.