حدیث

میں نے نبی ﷺ کو بیت اللہ میں سے صرف دونوں یمانی رُکنوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «لَمْ أَرَ النبِيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم يَستَلمُ- منَ البيتِ إِلا الرُّكنَينِ اليَمَانِيَينِ».

ترجمہ

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو بیت اللہ میں سے صرف دونوں یمانی رُکنوں کا استلام کرتے ہوئے دیکھا۔

تشریح

نبی ﷺ کعبہ کے چاروں ارکان (کونوں) میں سے صرف رکنِ اسود (وہ کونا جس میں حجرٍ اسود نصب ہے) اور رکنِ یمانی کا استلام کرتے۔ بیت اللہ کے چار ارکان (کونے) ہیں۔ ان میں سے مشرقی رکن کے دو فضائل ہیں: 1۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی قائم کی گئی بنیادوں پر ہے۔ 2۔ اس میں حجرِ اسود ہے۔ جب کہ رکنِ یمانی کی صرف ایک ہی فضیلت ہے اور وہ ہے اس کا ابراہیم علیہ السلام کی رکھی گئی بنیادوں پر ہونا۔ رکنِ شامی اور رکنِ عراقی کو ان فضائل میں سے کوئی بھی فضیلت حاصل نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں ابراہیم علیہ السلام کی رکھی گئی بنیاد سے اندر واقع ہیں بایں طور کہ ان کی طرف سے کعبہ میں سے پتھر نکال دیا گیا تھا۔ اس لیے حجرِ اسود کا استلام اور بوسہ دونوں مشروع ہے جب کہ رکن یمانی کا بغیر بوسے کے استلام (چھونا) مشروع ہے۔ باقی دونوں ارکان کے لیے نہ تو استلام مشروع ہے اور نہ ہی بوسہ۔ شریعت کا مدار اتباع پر ہے نہ کہ نئی خودساختہ اور من گھڑت باتوں پر۔ اللہ کی شریعت میں اس کی بے پناہ حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں۔

تشریح: العربية

لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم يستلم من الأركان الأربعة للكعبة إلا الركن الأسود والركن اليماني، فللبيت أربعة أركان، فللركن الشرقي منها فضيلتان: 1. كونه على قواعد إبراهيم. 2. وكون الحجر الأسود فيه. والركن اليماني له فضيلة واحدة، وهو كونه على قواعد إبراهيم. وليس للشامي والعراقي شيء من هذا، فإن تأسيسهما خارج عن أساس إبراهيم حيث أخرج الحجر من الكعبة من جهتهما؛ ولهذا فإنه يشرع استلام الحجر الأسود وتقبيله، ويشرع استلام الركن اليماني بلا تقبيل، ولا يشرع في حق الركنين الباقيين استلام ولا تقبيل، والشرع مبناه على الاتباع، لا على الإحداث والابتداع، ولله في شرعه حكم وأسرار.

  • استحباب استلام الركنين اليمانيين.
  • عدم مشروعية استلام غير الركنين اليمانيين من أركان الكعبة ولا غيرها من المقدسات.
  • السنة كما تكون في الأفعال تكون كذلك في المتروكات، فإذا وُجِد سبب الفعل في عهد النبي -صلى الله عليه وسلم- فلم يفعل؛ دل هذا على أن السنة تركه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید