حدیث

ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «جاء أعرابِيُّ، فبَالَ في طَائِفَة المَسجد، فَزَجَرَه النَّاسُ، فَنَهَاهُمُ النبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلمَّا قَضَى بَولَه أَمر النبي صلى الله عليه وسلم بِذَنُوب من ماء، فَأُهرِيقَ عليه».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے انہیں منع کر دیا۔ جب وہ پیشاب کر چکا تو نبی ﷺ نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا جسے اس پر بہا دیا گیا۔

تشریح

اعرابی لوگ عموماً سخت مزاج اور جاہل ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان باتوں کو نہیں سیکھ پاتے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہیں۔ نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی نے آکر مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ اس کے خیال میں یہ مسجد بھی ویرانے ہی کی مانند تھی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اس کا یہ فعل بہت گراں گزرا کیونکہ مساجد تو بہت حرمت والی جگہیں ہوتی ہیں۔ چنانچہ پیشاب کرنے کے دوران ہی انہوں نے اسے جھڑکنا شروع کر دیا۔ تاہم نبی ﷺ نے جو بہت بلند اخلاق سے متصف تھے اور جنہیں خوشخبری دینے اور آسانی پیدا کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا انہیں اسے جھڑکنے سے منع کر دیا کیونکہ آپ ﷺ اعرابی لوگوں کے احوال سے خوب آگاہ تھے۔آپ ﷺ کے منع کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ مسجد کی مختلف جگہوں، اپنے جسم اور کپڑوں کو خراب نہ کرے اور اس لیے کہ اسے پیشاب سے روکنے کی وجہ سے کوئی ضرر لاحق نہ ہو اور جب نبی ﷺ اسے تعلیم دیں اور نصیحت کریں تو وہ پورے طریقے سے اسے قبول کرے۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ پیشاب والی جگہ پر پانی کا ڈول بہا کر اسے صاف کر دیں۔

تشریح: العربية

من عادة الأعراب، الجفاء والجهل، لبعدهم عن تعلم ما أنزل الله على رسوله صلى الله عليه وسلم . فبينما كان النبي صلى الله عليه وسلم في أصحابه في المسجد النبوي، إذ جاء أعرابي وبال في أحد جوانب المسجد، ظناً منه أنه كالفلاة، فعظم فعله على الصحابة رضي الله عنهم لعظم حرمة المساجد، فنهروه أثناء بوله، ولكن صاحب الخلق الكريم، الذي بعث بالتبشير والتيسير نهاهم عن زجره، لما يعلمه من حال الأعراب، لئلا يُلوث بقعاً كثيرة من المسجد، ولئلا يلوث بدنه أو ثوبه، ولئلا يصيبه الضرر بقطع بوله عليه، وليكون أدعى لقبول النصيحة والتعليم حينما يعلمه النبي صلى الله عليه وسلم ، وأمرهم أن يطهروا مكان بوله بصب دلو من ماء عليه.

  • العناية بالمساجد وتنزيهها عن القذر والبول.
  • وجوب تطهير المساجد من النجاسة فورا إذا حصلت فيها.
  • البول على الأرض يطهر بصب الماء عليه بحيث يغطى البول ولا يبقى له أثر، ولا يشترط نقل التراب من المكان بعد ذلك.
  • سماحة خلق النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقد أرشد الأعرابي برفق ولين بعد ما بال.
  • بُعْدُ نظره -صلى الله عليه وسلم-، ومعرفته لطبائع الناس.
  • عند تزاحم المفاسد، يرتكب أخفها، فقد تركه يكمل بوله، لأجل ما يترتب من الأضرار بقطعه عليه.
  • البعد عن الناس والمدن، يسبب الجفاء والجهل.
  • الرفق عند تعليم الجاهل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید