حدیث

جتنا تم ہم سے اب ملتے ہو اس سے زیادہ ملنے میں تمھارے لیے کیا رکاوٹ ہے؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قال: «قال النبي صلى الله عليه وسلم لجبريل: «مَا يَمْنَعُك أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَر مِمَّا تَزُورَنَا؟» فنزلت: (وَمَا نَتَنَزَّل إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَينَ ذَلِك ).

ترجمہ

ابن عباس رضي الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جبرئیل امین علیہ السلام سے فرمایا: ”جتنا تم ہم سے اب ملتے ہو اس سے زیادہ ملنے میں تمھارے لیے کیا رکاوٹ ہے؟“ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: (وَمَا نَتَنَزَّل إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَينَ ذَلِك )[مريم: 64] ترجمہ: ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے۔ اسی کی ملکیت ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے مابین ہے۔

تشریح

یہ حدیث نبی ﷺ کے جبریل علیہ السلام سے شوقِ ملاقات کو بیان کر رہی ہے۔ کیونکہ وہ اللہ عز و جل کے ہاں سے آتے ہیں۔ جب جبریل علیہ السلام نے آنے میں چالیس دن دیر کر دی تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اے جبریل! آپ ہم سے ملاقات کے لئے کیوں نہیں آتے؟ یعنی آپ نازل نہ ہوئے یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کا مشتاق ہو گیا۔ اللہ تعالی نے جبریل علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ آپ ﷺ سے کہیں: (وما نتنزل إلا بأمر ربك) یعنی اللہ سبحانہ نے کہا کہ اے جبرائیل! یہ کہو کہ ہم دیر دیر سے اللہ کے حکم ہی سے آتے ہیں جیسا کہ اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ ہمارے آگے جو امور آخرت ہیں اور ہمارے پیچھے جو امور دنیا ہیں، اور آیت کا تکملہ "وما بين ذلك" (اور جو کچھ ان کے درمیان ہے) یعنی اس وقت سے لے کر قیامت آنے تک جو کچھ بھی ہو گا ان سب کا علم اسے ہے اور تیرا رب بھولنے والا نہیں یعنی وحی میں تاخیر کر کے آپ کو چھوڑ دینے والا نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھے لوگوں کو اپنا ہم نشین بنائے، اور وہ ان کی زیارت کرےاور وہ لوگ اس سے ملاقات کرنے آئیں کیونکہ اس میں بہت خیر مضمر ہے۔

تشریح: العربية

يحكي الحديث شوق النبي صلى الله عليه وسلم لجبريل -عليه السلام-؛ لأنَّه يأتيه من الله عز وجل ، حيثُ أبطأ جبريل في النزول أربعين يوما فقال له النبي صلى الله عليه وسلم يا جبريل: (ما يمنعك أن تزورنا)؟، أي: ما نزلت حتى اشتقت إليك، وأوحى الله إلى جبريل قل له: (وما نتنزل إلا بأمر ربك) أي قال الله سبحانه قل يا جبريل ما نتنزل في أوقات متباعدة إلا بإذن الله على ما تقتضيه حكمته، فهو سبحانه: (له ما بين أيدينا) أي: أمامنا من أمور الآخرة، (وما خلفنا): من أمور الدنيا، وتمام الآية "وما بين ذلك" أي: ما يكون من هذا الوقت إلى قيام الساعة، أي: له علم ذلك جميعه وما كان ربك نسيا أي: ناسيا يعني تاركا لك بتأخير الوحي عنك. فالحاصل أن هذ الحديث يدل على أنه ينبغي للإنسان أن يصطحب الأخيار، وأن يزورهم ويزوروه لما في ذلك من الخير.

  • محبة النبي -صلى الله عليه وسلم- لجبريل عليه السلام وشوقه لرؤيته، وللعلم بما يحمل معه من وحي.
  • استحباب زيارة الإخوة في الله ودعوتهم للزيارة، والسؤال عند التأخر.
  • جواز استفسار المسلم من أخيه المسلم عن سبب تأخره عنه؛ لأن فيه علامة المحبة، وفيه من التحبب ما هو ممدوح شرعاً.
  • الملائكة لا تتصرف ولا تتنزل إلا بأمر الله.
  • طلب الصديق من صديقه كثرة زيارته، إذا لم يكن مانع من شغل أو غيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید