حدیث

رسول اللہ ﷺ (مدینے سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے۔ جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما "أَنَّ رسُول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَانَ يَخرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّس، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَنِيَّةِ العُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَنِيَّةِ السُّفْلَى".

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مدینے سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے۔ اور جب مکے میں داخل ہو تے، تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔

تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث عید، جمعہ اور دیگر عبادات میں راستہ بدل کر آنے جانے کے استحباب کے موضوع پر ہے۔ راستہ بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ایک راستے سے عبادت کے لیے جائے اور دوسرے راستے سے واپس آئے۔ مثال کے طور پر وہ دائیں جانب سے جائے اور بائیں جانب سے واپس آئے۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے عیدین میں ثابت ہے۔ جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ عید کے دن راستہ تبدیل کرتےتھے۔ یعنی ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے۔ اس حدیث میں بھی یہی بیان ہوا ہے۔ علما نے راستہ تبدیل کرنے کی بہت ساری حکمتیں بیان کی ہیں، جن میں چند ایک مشہور یہ ہیں: 1۔ دونوں راستے قیامت کے دن اس کے لیے گواہ بنیں گے؛ کیوں کہ قیامت کے دن زمین انسان کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی۔ اس لیے جب وہ ایک راستے سے جائےگا اور دوسرے سے واپس آ ئے گا، تودونوں راستے اس بات کے گواہ بن جائیں گے کہ اس نے نمازعید ادا کی تھی۔ 2۔ عید جیسے اہم ترین اسلامی شعار کے اظہار کے لیے۔ جب ہر طرف بازار بھرجائیں گے اور لوگ شہر کے راستوں میں پھیل جائيں گے، تو اس اسلامی شعار کا اظہار ہوگا۔ عید اسلامی شعار ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے اظہار اور اعلان کے لیے لوگوں کو صحرا میں نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 3۔ اس کی ایک وجہ مساکین بھی ہیں، جو بازاروں میں کبھی اس راستے پر ہوتے ہیں، تو کبھی اس راستے پر۔ ایسے راستہ بدل لیا جائے، تاکہ سب پر صدقہ کیا جا سکے۔ لیکن قریب تر بات یہ ہے کہ اصل وجہ اس شعار کا اظہار ہے؛ تاکہ نماز عید کے لیے نکلنے سے شہر کی تمام سڑکوں سے نماز عید کے شعار کا اظہار ہو۔ جہاں تک حج کی بات ہے، تو جیساکہ اس حدیث میں مذکور ہے، رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں داخل ہوتے وقت راستہ تبدیل کیا؛ مکہ کی اوپری جانب سے داخل ہوئے اور نچلی جانب سے نکلے۔ اسی طرح عرفہ جاتے وقت آپ ایک راستے سے گئے اور دوسرے راستے سے واپس ہوئے۔ علما کا اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ بطور عبادت کیا تھا یا اپنے داخل ہونے اور نکلنے کی سہولت کے مدنظر؟ کیوں کہ ممکن ہے کہ اوپری جانب سے داخل ہونا آسان ہو اور نچلی جانب سے نکلنا۔ پہلے موقف کے قائلین کا کہنا ہے کہ یہ سنت ہے کہ مکہ کی اوپری جانب سے داخل ہوا جائے اور نچلی جانب سے نکلا جائے اور یہ بھی سنت ہے کہ عرفہ میں ایک راستہ سے آیا جائے اور دوسرے سے واپس جایا جائے۔ جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ معاملہ راستے کی فراہمی اور آسان ہونے کا ہے۔ جو راستہ سہل لگے، اسے اختیار کیا جائے، بالائی والا ہو یا زیریں والا۔ بہرحال اگر حاجی بالائی حصے سے داخل ہونے اور زیریں حصے سے نکلنے کا اہتمام کر سکے، تو یہ بہتر ہے؛ کیوں کہ اگر یہ عبادت ہے، تو ادا ہو گئی اور اگر عبادت نہیں ہے تو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو سکا، تو اسے اس کا مکلف نہیں کیا جائے گا۔ جیسا کہ موجودہ صورت حال ہے۔ آج راستے یک رخی بنا دیے گئے ہیں اور اولیاء الامور کی مخالفت بھی ممکن نہیں ہے۔ اور الحمد للہ مسئلے میں بڑی گنجائش بھی ہے۔

تشریح: العربية

حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما في موضوع استحباب مخالفة الطريق في العيد والجمعة وغيرها من العبادات. ومعنى مخالفة الطريق: أن يذهب المسلم إلى العبادة من طريق ويرجع من الطريق الآخر؛ فمثلًا يذهب من الجانب الأيمن ويرجع من الجانب الأيسر، وهذا ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم في العيدين، كما رواه جابر -رضي الله- عنه كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد خالف الطريق؛ يعني خرج من طريق ورجع من طريق آخر، وكذلك في الحديث الذي معنا. وتنوعت أقوال العلماء في الحكمة في المخالفة في الطريق على أقوال أشهرها: 1. ليشهد له الطريقان يوم القيامة؛ لأن الأرض يوم القيامة تشهد على ما عمل فيها من خير وشر، فإذا ذهب من طريق ورجع من آخر؛ شهد له الطريقان يوم القيامة بأنه أدى صلاة العيد. 2. من أجل إظهار الشعيرة، شعيرة العيد؛ حتى تكتظ الأسواق هنا وهناك، فإذا انتشر في طرق المدينة صار في هذا إظهار لهذه الشعيرة؛ لأن صلاة العيد من شعائر الدين، والدليل على ذلك أن الناس يؤمرون بالخروج إلى الصحراء؛ إظهارًا لذلك، وإعلانًا لذلك. 3. إنما خالف الطريق من أجل المساكين الذين يكونون في الأسواق، قد يكون في هذا الطريق ما ليس في هذا الطريق، فيتصدق على هؤلاء وهؤلاء. ولكن الأقرب والله أعلم أنه: من أجل إظهار تلك الشعيرة، حتى تظهر شعيرة صلاة العيد بالخروج إليها من جميع سكك البلد. أما في الحج كما جاء في الحديث الذي معنا، فإن الرسول صلى الله عليه وسلم خالف الطريق في دخوله إلى مكة دخل من أعلاها، وخرج من أسفلها، وكذلك في ذهابه إلى عرفة، ذهب من طريق ورجع من طريق آخر. واختلف العلماء أيضا في هذه المسألة، هل كان النبي صلى الله عليه وسلم فعل ذلك على سبيل التعبُّد؛ أو لأنُّه أسهل لدخوله وخروجه؟ لأنه كان الأسهل لدخوله أن يدخل من الأعلى ولخروجه أن يخرج من الأسفل. فمَنْ قال من العلماء قال بالأول قال: إنه سنة أن تدخل من أعلاها: أي أعلى مكة وتخرج من أسفلها، وسنة أن تأتي عرفة من طريق وترجع من طريق آخر. ومنهم من قال: إن هذا حسب تيسر الطريق، فاسلك المتيسر سواء من الأعلى أو من الأسفل. وعلى كل حال إن تيسر للحاج والمعتمر أن يدخل من أعلاها ويخرج من أسفلها فهذا طيب؛ فإن كان ذلك عبادة فقد أدركه، وإن لم يكن عبادة لم يكن عليه ضرر فيه، وإن لم يتيسر فلا يتكلف ذلك كما هو الواقع في وقتنا الحاضر، حيث إن الطرق قد وجهت توجيهًا واحدًا، ولا يمكن للإنسان أن يخالف ولي الأمر والحمد لله الأمر واسع.

  • استحباب مخالفة الطريق في الذهاب والإياب في الحج؛ لتكثير طرق الخير.
  • يرى بعض العلماء أن سير النبي -صلى الله عليه وسلم- من هذه الطرق سببه أنها أيسر لطريقه، وليست سنة مقصودة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید