حدیث

رسول اللہ ﷺ منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ،پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : پکڑو۔اور آپ نے اپنے (سر کی ) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک )لوگوں کو دینے لگے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى مِنَى، فأتى الجَمْرَةَ فرماها، ثم أتى منزله بمِنَى ونحر، ثم قال للحلاق: «خُذْ» وأشار إلى جانبه الأيمن، ثم الأيسر، ثم جعل يعطيه الناسَ. وفي رواية: لما رمى الجَمْرَةَ، ونحر نُسُكَهُ وحلق، ناول الحلاق شِقَّهُ الأيمن فحلقه، ثم دعا أبا طلحة الأنصاري رضي الله عنه فأعطاه إياه، ثم ناوله الشِّقَّ الأَيْسَرَ، فقال: «احْلِقْ»، فحلقه فأعطاه أبا طلحة، فقال: «اقْسِمْهُ بين الناس».

ترجمہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منیٰ تشر یف لائے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : پکڑو۔ اور آپ نے اپنے (سر کی ) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک )لوگوں کو دینے لگے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رمی جمرہ کے بعد آپ ﷺ نے قربانی کی اور سر منڈایا؛ نائی کو سر کا دایاں حصہ (مونڈنے کے لیے) دیا اُس نے اسے مونڈ دیا، آپ ﷺ نے ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلا کر وہ بال دے دیے، پھر نائی کو بایاں حصہ دیا اور اُس سے فرمایا مونڈ دو، اُس نے مونڈ دیا، آپ ﷺ نے اُسے بھی ابوطلحہ کو دے دیا اور فرمایا ’’اسے لوگوں کے مابین تقسیم کردو‘‘۔

تشریح

رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پرجب عید کے دن منیٰ آئے توجمرات کی رمی کی، پھر اپنے ٹھکانے کی طرف گیے اور اپنے قربانی کے جانور کی نحر کی، اس کے بعد نائی کو بلایا اس نے آپ کے سر کے بال مونڈے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دائیں جانب اشارہ کیا تو حلاق(نائی) نے دائیں جانب سے بال مونڈنا شروع کیا۔ پھرآپﷺ نے ابو طلحہ انصاری کو بلایا اور اپنی دائیں جانب کے کٹے ہوئے تمام بال ان کو دے دیے۔ پھر باقی سر مونڈا گیا اور آپ نے ابو طلحہ کو بلایا اور وہ بھی ان کو دے دیے اور فرمایا کہ اس کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔ انھوں نے وہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیے کسی کو ایک بال ملا، کسی کو دو اور کسی کو اس سے زیادہ جو میسر ہوا ملا۔ اور یہ نبی ﷺ کے اس مبارک بال کے تبرک کی وجہ سے ہوا۔ اور یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے آثار کے ساتھ خاص اور جائز ہے۔

تشریح: العربية

لما أتى النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع إلى منى يوم العيد رمى الجمرة، ثم ذهب إلى منزله ونحر هديه، ثم دعا بالحلاَّق فحلق رأسه؛ وأشار -صلى الله عليه وسلَّم- إلى الشق الأيمن فبدأ الحلاَّق بالشقِّ الأيمن، ثم دعا أبا طلحة -رضي الله عنه الأنصاري- وأعطاه شعر الشق الأيمن كله، ثم حلق بقية الرأس، ودعا أبا طلحة وأعطاه إياه، وقال: "اقسمه بين الناس" فقسمه، فمن الناس من ناله شعرة واحدة، ومنهم من ناله شعرتان، ومنهم من ناله أكثر حسب ما تيسر؛ وذلك لأجل التبرك بهذا الشعر الكريم؛ شعر النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا جائز وخاص بآثاره صلى الله عليه وسلم .

  • استحباب البدء بيمين المحلوق، وهوشق الرأس الأيمن.
  • جواز التبرك بآثار الرسول -صلى الله عليه وسلم- في حدود ما أذن به.
  • جواز تخصيص بعض الناس بالخير دون غيرهم؛ لكونهم أهلًا لذلك، ولذلك دعا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أبا طلحة الأنصاري -رضي الله عنه وأرضاه-، وأعطاه شعره، وأمره أن يقسمه بين الناس.
  • فضيلة أبي طلحة، وهو زوج أم سليم، وهو الذي حفر قبر النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • توزيع شعره -صلى الله عليه وسلم- على الناس؛ ليكون بركة باقية عند الناس بعد موته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید