حدیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ حُذَيْفَةَ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

ترجمہ

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کا بڑا اہتمام کرتے اور اس کا حکم دیا کرتے تھے۔ کچھ اوقات میں مسواک کا تاکیدی حکم ہے۔ جیسے رات کى نیند سے اٹھتے وقت مسواک کرنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سوکر اٹھتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے تھے۔

فوائد

  • رات میں سوکر اٹھنے کے بعد مسواک کرنے کی مشروعیت کی تاکید۔ وجہ یہ ہے کہ سونے کی وجہ سے منہ کی بو بدل جاتی ہے اور مسواک صفائی کا آلہ ہے۔
  • منہ کے اندر بدبو پیدا ہو جانے پر مسواک کا تاکیدی حکم۔
  • صفائی کی عمومی مشروعیت۔ یہ سنت نبوی کا حصہ ہے اور اعلی اسلامی آداب میں داخل ہے۔
  • پورے منہ کا مسواک کرنے میں دانت، مسوڑھے اور زبان داخل ہے۔
  • مسواک نام ہے پیلو وغیرہ کی لکڑی کا، جسے کاٹ کر منہ اور دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے منہ پاک صاف ہوتا ہے اور بدبوئيں دور ہوتی ہیں۔
تشریح: العربية

كانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم كثيرًا ما يَستاك ويأمر به، وهو يتأكد في بعض الأوقات، منها: الاستياكُ عند القيام من الليل، حيث كان صلى الله عليه وسلم يَدلُك وينقِّي فاه بالسواك.

  • تأكيد مشروعية السواك بعد نوم الليل، وذلك أنَّ النوم مُقتَضٍ لتَغَيُّر رائحة الفم، والسواك هو آلة تنظيفية.
  • تأكيد مشروعية السواك عند كل تَغَيُّرٍ كريهٍ للفم، أخذًا من المعنى السابق.
  • مشروعية النظافة على وجه العموم، وأنها من سنة النبي صلى الله عليه وسلم، ومن الآداب السامية.
  • التسوُّك في الفم كلِّه يشمل: الأسنان، واللثة، واللسان.
  • السواك هو عُودٌ يُقطَع من شجرة الأراك أو غيرها، ويُستخدم في تنظيف الفم والأسنان، ويطيِّب الفم، ويُزيل الروائح الكريهة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید