حدیث

تمتع کی آیت نازل ہوئی یعنی حج تمتع کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور پھر حج تمتع کی منسوخی پر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے مرتے دم تک اس سے منع فرمایا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن عمران بن حصين رضي الله عنهما قال: «أُنْزِلَت آيَةُ المُتْعَةِ في كتاب اللَّه تعالى ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، وَلَم يَنْزِلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهَا، وَلَم يَنْهَ عَنهَا حَتَّى مات، قال رجل بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ»، قال البخاري: «يقال إنه عمر». وفي رواية: « نَزَلَت آيَةُ المُتْعَةِ -يَعْنِي مُتْعَةَ الحَجِّ- وَأَمَرَنا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ، ثُمَّ لَم تَنْزِل آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ». ولهما بمعناه.

ترجمہ

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :کتاب اللہ میں حج تمتع کے بارے میں آیت نازل ہوئی ۔ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا اور قرآن میں اس کی حرمت اور ممانعت کی کوئی دلیل نازل نہ ہوئی یہاں تک کہ آپﷺ فوت ہو گیے۔ صرف ایک صاحب ہیں جو اپنی رائے علیحده رکھتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :یہ صاحب عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور دوسری روایت میں ہے:تمتع کی آیت نازل ہوئی یعنی حج تمتع کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور پھر کوئی ایسی آیت بھی نازل نہیں ہوئی جوحجِ تمتع کے حکم کو منسوخ کرتی۔ اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے مرتے دم تک اس سے منع کیا تھا۔ (بخاری ومسلم میں اس معنی کی حدیث موجود ہے)

تشریح

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عمرہ کے ساتھ حج (حجِ تمتع) کرنے کےبارے میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول میں مشروع قرار دیا گیا ہے۔ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي}.’’جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے۔‘‘ جب کہ سنت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج تمتع کیا،اس کو برقرار رکھا ،قرآن میں اس کی حرمت پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ رسول اللہﷺ دنیا سے چلےگیے اور یہ حکم باقی رہا اس کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ تو پھر ایک آدمی اپنی رائے سے (ممانعت کی بات) کیسے کہہ سکتا اور اس سے (کیسے) روک سکتا ہے۔؟ اس سے ان کا اشارہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف تھا جنھوں نے ایامِ حج میں اپنی اجتہاد سے اس سے منع کر دیا تھا تاکہ پورے سال زائرینِ بیت اللہ کثرت سے آتے رہیں، اس لیے کہ ان ایام میں جس تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں موسم حج کے علاوہ اس طرح نہیں آتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا منع کرنا بطورِ تحریم یا کتاب و سنت پرعمل کو ترک کرتے ہوئے نہیں تھا بلکہ عمومی مصلحت کا خیال کرتے ہوئے عارضی طور پر منع کردیا تھا۔

تشریح: العربية

ذكر عمران بن حصين رضي الله عنهما المتعة بالعمرة إلى الحج، فقال: إنها شرعت بكتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم ، فأما الكتاب، فقوله تعالى : {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي}. وأما السنة: ففعل النبي صلى الله عليه وسلم لها، وإقراره عليها، ولم ينزل قرآن يحرمها، ولم ينه عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وتوفي النبي صلى الله عليه وسلم ، وهي باقية لم تنسخ بعد هذا، فكيف يقول رجل برأيه وينهى عنها؟ يشير بذلك إلى نهي عمر بن الخطاب رضي الله عنه عنها في أشهر الحج؛ اجتهادا منه ليكثر زوار البيت في جميع العام؛ لأنهم إذا جاءوا بها مع الحج، لم يعودوا إليه في غير موسم الحج، وليس نهي عمر رضي الله عنه للتحريم أو لترك العمل بالكتاب والسنة، وإنما هو منع مؤقت للمصلحة العامة.

  • مشروعية التمتع وثبوته في الكتاب والسنة.
  • قوله: "لم ينزل قرآن يحرمها" دليل على ثبوت النسخ في الشريعة، وأن القرآن ينسخ بالقرآن.
  • القرآن منزل غير مخلوق.
  • توفي النبي -صلى الله عليه وسلم- وحكم المتعة باق لم ينسخ.
  • قوله: "ولم ينه عنها" دليل على جواز نسخ القرآن بالسنة؛ لأنه لو لم يكن النسخ ممكنا لما احتاج إلى الاحتراز في رفع حكم التمتع الثابت بالقران من نهي النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • قوله: "قال رجل برأيه ما شاء" فسره البخاري بعمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، وروي أيضا عن عثمان ومعاوية -رضي الله عنه-، وقصدهم من ذلك أن لا يقتصر الناس على زيارة البيت في أشهر الحج فقط، بل ليقصد في جميع العام، ولكن كتاب الله تعالى وسنة رسوله مقدمان على كل اجتهاد، والله أعلم بأسرار شرعه، والآن مع جواز التمتع وإتيان الناس بالعمرة في أشهر الحج، لم يخل البيت من الزوار في كل وقت، نسأل الله -تعالى- أن يعلي كلمته، وينشر دينه، ويقيم شعائره. آمين.
  • لا نسخ بغير الكتاب والسنة، ولا نسخ بعد وفاة النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • الإنكار على من عارض السنة أيًّا من كان.
  • حسن سيرة السلف الطيبين، في الجمع بين بيان الحق واحترام ذوي الفضل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید