حدیث

”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَيْتُمُ الغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا القِبْلَةَ، وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّأْمَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ القِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ، وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى.

ترجمہ

ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے نہ تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور نہ پشت۔ بلکہ یا تو مشرق کی طرف منہ کیا کرو یا مغرب کی طرف“۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم شام آئے، تو ہم نے دیکھا کہ بیت الخلا کعبہ رخ بنائے گئے تھے۔ چنانچہ ہم (جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو) کعبہ کی سمت سے ہٹ کر بیٹھتے اور اللہ عز و جل سے استغفار کرتے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قضائے حاجت یعنی پیشاب اور پاخانہ کا ارادہ کرنے والے کو قبلہ اور کعبہ کی جانب منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ اسے مشرق یا مغرب کی جانب رخ کر کے بیٹھنا چاہیے، اگر اس کا قبلہ اہل مدینہ کا قبلہ ہو۔ پھر ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ جب وہ شام پہنچے تو دیکھا کہ وہاں قضائے حاجت کے لیے بنے ہوئے بیت الخلا کعبہ رخ بنے ہوئے ہيں۔ اس لیے وہ اپنے جسم کو کعبہ کے رخ سے موڑ کر بیٹھتے اور قضائے حاجت کے بعد اللہ سے مغفرت طلب کر لیا کرتے۔

فوائد

  • اس میں پنہاں حکمت کعبہ کی تعظیم اور اس كا احترام ہے۔
  • قضائے حاجت کی جگہ سے نکلنے کے بعد استغفار کرنا چاہیے۔
  • اس حدیث سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم کا خوب صورت طریقہ سامنے آتا ہے کہ جب حرام کا ذکر کیا، تو مباح کی جانب بھی رہنمائی کر دی۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَن أراد قضاء حاجته من بول أو غائط أن يستقبل القبلة وجهة الكعبة، ولا يستدبرها بأن يجعلها خلف ظهره؛ بل عليه أن ينحرف عنها قِبَلَ المشرق أو المغرب إذا كانت قبلته كقبلة أهل المدينة. ثم أخبر أبو أيوب رضي الله عنه أنهم لما قدموا الشام وجدُوا فيها المراحيض المعدة لقضاء الحاجة قد بُنيت متجهة إلى الكعبة، فكانوا ينحرفون بأجسادهم عن القبلة، ومع ذلك يستغفرون الله.

  • الحكمة في ذلك تعظيم الكعبة المشرفة واحترامها.
  • الاستغفار بعد الخروج من مكان قضاء الحاجة.
  • حسن تعليم النبي صلى الله عليه وسلم؛ لأنه لما ذكر الممنوع أرشد إلى الجائز.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید