حدیث

جو شخص طاعون کے مرض میں مبتلا ہوا اور صبر اور اجر وثواب کی نیت رکھتے ہوئے وہ اپنے علاقےمیں ہی مقیم رہا، یہ یقین رکھا کہ اسے صرف وہی تکلیف پہنچے گی، جو اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھی ہے، تو اسے شہید کے اجر کے مساوی اجر ملے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها أَنَّها سَأَلَت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطَّاعُون، فَأَخبَرَها أَنَّه كَان عَذَابًا يَبعَثُه الله تعالى على من يشاء، فَجَعَلَه الله تعالى رحمَة للمؤمنين، فليس من عبدٍ يقع في الطَّاعُون فَيَمكُث فِي بَلَدِه صَابِرًا مُحتَسِبًا يعلَم أَنَّه لايُصِيبُه إِلاَّ مَا كتَب الله له إلا كان له مِثلُ أجرِ الشَّهيدِ.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا۔ آپﷺ نے انھیں بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا، جسے اللہ تعالی جس پر چاہتا، نازل کردیتا۔ تاہم ایمان والوں کے لیے اللہ تعالی نے اسے رحمت بنا دیا۔ چنانچہ جو شخص بھی طاعون کے مرض میں مبتلا ہوا اور صبر اور اجر وثواب کی نیت رکھتے ہوئے وہ اپنے علاقےمیں ہی مقیم رہا، اس یقین کے ساتھ کہ اسے صرف وہی تکلیف پہنچے گی، جو اللہ نے اس کے لئے لکھ رکھی ہے، تو اسے شہید کے اجر کے مساوی اجر ملے گا۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا، تو آپﷺ نے انھیں بتایا کہ طاعون ایک عذاب ہے، جسے اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، نازل کر دیتا ہے۔ چاہے یہ معین طاعون ہو یا پھر عام وبا ہو، جیسے ہیضہ وغیرہ؛ طاعون اللہ عز و جل کا بھیجا ہوا عذاب ہے۔ لیکن یہ مؤمن کے لیے رحمت ہے، بایں طور کہ یہ کسی کے علاقےمیں پھیل جائے اور وہ صبر کا دامن تھام کر، اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے، اس یقین کے ساتھ اسی علاقے میں رہے کہ اسے وہی مصیبت پہنچ سکتی ہے، جو اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھی ہے، تو اللہ تعالی اس کے لیے شہید کے برابر اجر لکھ دیتا ہے۔ اسی لیے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "جب تمھیں یہ معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون پھیلا ہوا ہے، تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی علاقےمیں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں ہو، تو اس سے بچنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو"۔ جب کسی جگہ طاعون پھیل چکا ہو، تو وہاں ہم نہیں جائیں گے؛ کیوں کہ وہاں جانا اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ تاہم جب وہ کسی علاقے میں پھیل چکا ہو، تواس سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے ہم وہاں سے نہیں نکلیں گے۔ کیوں کہ اللہ کی طرف سے مقدر کردہ شے جب زمین پر نازل ہوجائے، تو آپ اس سے جتنا بھی بھاگ لیں، آپ کا یہ بھاگنا اللہ کےمقابلے میں آپ کو کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا؛ کیوں کہ اللہ کی قضا سے سوائے اس کی ذات کے اور کوئی مفر نہیں ہے۔ طاعون پر صبر کرنے والے اور اجر و ثواب کی امید رکھنے والے شخص کو شہدا کا درجہ حاصل ہونے کا راز یہ ہے کہ جب انسان کے علاقے میں طاعون پھیلتا ہے، تو اس کے لیے جان قیمتی ہوتی ہے، اس وجہ سے وہ اس سے بھاگ اٹھے گا اور طاعون سے خوف زدہ ہو جائے گا۔ تاہم اگر وہ صبر کرے، وہیں مقیم رہے اور اجر کی امید رکھے اور یقین کر لے کہ اسے صرف وہی مصیبت لاحق ہو گی، جسے اللہ نے اس کے لیے لکھ رکھا ہے اور پھر اس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو جائے، تو اس شخص کے لیے شہید کے مساوی اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ اللہ عز و جل کی طرف سے ایک نعمت ہے۔

تشریح: العربية

في حديث عائشة رضي الله عنها أنها سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطاعون، فأخبرها أن الطاعون عذاب يرسله الله سبحانه وتعالى على من يشاء من عباده. وسواء كان الطاعون معيناً أم كان وباء عاما مثل الكوليرا وغيرها؛ فإن هذا الطاعون عذاب أرسله الله عز وجل، ولكنه رحمة للمؤمن إذا نزل بأرضه وبقي فيها صابراً محتسباً، يعلم أنه لا يصيبه إلا ما كتب الله له، فإن الله تعالى يكتب له مثل أجر الشهيد، ولهذا جاء في الحديث الصحيح عن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه، وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فراراً منه". إذا وقع الطاعون بأرض فإننا لا نقدم عليها؛ لِأنَّ الإقدام عليها إلقاء بالنفس إلى التهلكة، ولكنه إذا وقع في أرض فإِنَّنا لا نخرج منها فراراً منه، لأنك مهما فررت من قدر الله إذا نزل بالأرض فإن هذا الفرار لن يغني عنك من الله شيئاً؛ لأنه لا مفر من قضاء الله إلا إلى الله. وأما سر نيل درجة الشهداء للصابر المحتسب على الطاعون: هو أن الإنسان إذا نزل الطاعون في أرضه فإن الحياة غالية عنده، سوف يهرب، يخاف من الطاعون، فإذا صبر وبقي واحتسب الأجر وعلم أنه لن يصيبه إلا ما كتب الله له، ثم مات به، فإنه يكتب له مثل أجر الشهيد، وهذا من نعمة الله عز وجل .

  • أصل الطاعون عذاب ورجز على الأمم السابقة.
  • رحمة الله بهذه الأمة الإسلامية وما خصَّها الله من خير فقد جعل الله ما كان عذاباً لغيرها رحمة بها.
  • الأجر على ما يصيب العبد من هم وحزن وغم وأذى خاص بأهل الإيمان دون غيرهم.
  • لا يقتصر أجر الشهيد على من مات في الحرب، وإنما يشمل أناسا كثيرين.
  • من مات بالطاعون صابرًا محتسبًا كان له أجر الشهيد.
  • من مات مطعونا أو مبطونا -بسبب مرض في البطن- أو غريقا أو النفساء ممن عدَّهم الإسلام في زمرة الشهداء لا يعاملون معاملة شهيد الحرب بل لهم أجر الشهداء.
  • إذا وقع الطاعون بأرض والعبد فيها، فلا يجوز له الخروج منها، بل عليه أن يبقى فيها محتسبا راضيا بأمر الله وقدره.
  • حرص الإسلام على محاصرة الأمراض الخبيثة والمعدية وعدم انتشارها، وهذا هو مبدأ "الحَجر الصحي".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید