حدیث

تم لوگ (اپنی دعاؤں میں) کثرت کے ساتھ ”يَاذَا الجَلاَلِ والإكْرامِ“ پڑھتے رہا کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : «ألِظُّوا بـ (يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ)».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ (اپنی دعاؤں میں) کثرت کے ساتھ ”يَاذا الجَلاَلِ والإكْرامِ“ پڑھتے رہا کرو۔

تشریح

حدیث میں ”ألِظُّوْا“ کے لفظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے جس کا معنی ہے پابندی اور کثرت کے ساتھ یہ دعا مانگو۔ مراد یہ ہے کہ اپنی دعا میں ہمیشہ یہ الفاظ کہو اور انہیں اپنی زبان پر جاری رکھو۔ ان الفاظ میں اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسم اعظم ہے کیونکہ وہ ربوبیت اور الوہیت سے متعلق تمام صفات پر مشتمل ہے۔

تشریح: العربية

في الحديث أمر(ألظوا)، بمعنى: الزموا هذه الدعوة وأكثروا منها، فالمراد: داوموا على قولكم ذلك في دعائكم واجعلوه على لسانكم وقد اشتمل على اسم من أسماء الله قيل إنه الاسم الأعظم، لكونه يشمل جميع صفات الربوبية والألوهية.

  • الحث على الإكثار من الدعاء بهذه الكلمات الواردة؛ لما فيها من الثناء التام لله -تعالى- ووصفه بصفات الكمال.
  • من آداب الدعاء الثناء على الله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید