حدیث

نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے مارو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أُتِي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قد شَرِب خمرا، قال: «اضربوه». قال أبو هريرة: فمنا الضارب بيده، والضارب بنعله، والضارب بثوبه، فلما انصرف، قال بعض القوم: أخزاك الله، قال: «لا تقولوا هكذا، لا تُعِينُوا عليه الشيطان».

ترجمہ

ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے مارو۔ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ كا بيان ہے کہ: تو ہم میں سے کوئى اسے اپنے ہاتھ سے، كوئى اپنے جوتے سے اور کوئى اپنے کپڑے سے ماررہا تھا۔ جب وہ (مار كهاكر) جانے لگا تو لوگوں میں سے کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔

تشریح

حدیث کا معنی: صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبیﷺ کے پاس ایک آدمی کو لے کر آئے جس نے شراب نوشی کی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے اسے مارا۔ ان میں سے کچھ نے اسے مارنے کے کسی دوسرے آلے کے استعمال کے بغیر خالی اپنے ہاتھ سے مارا، تو کسی نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور یہ اسے عبرتناک سزا دینے کے طورپر تھی، اور کسی نے اسے اپنے کپڑے سے مارا۔ جبکہ انہوں نے کوڑے کا استعمال نہیں کیا جو کہ مارنے سے متعلق شرعی حد (کے نفاذ) کا آلہ ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے بیس آدمیوں کو حکم دیا تو ان میں سے ہر ایک نے اسے چھڑی اور جوتے سے دو دو ضرب لگائے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ کوڑوں کی تعداد چالیس ہے، اور خلفائے راشدین سے اس پر جو اضافہ وارد ہے وہ بطور تعزیر ہے جو امام وقت (حاکم) کی صوابدید پر منحصر ہے۔ پھر جب لوگ اسے مار نے سے فارغ ہوگئے تو ان میں سے کسی نے اسے یہ بددعا دی کہ: ”اللہ تجھے رسوا کرے“ یعنی اسے رسوائی کی بددعا دی، جس کا مطلب لوگوں کے بیچ ذلت وخواری، اہانت و حقارت اور فضیحت ورسوائی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”ا سے اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ کیونکہ جب لوگ اسے ذلت ورسوائی کی بددعا دیں گے تو بسا اوقات ان کی بددعا قبول ہوسکتی ہے، تو اس طرح شیطان اپنی مراد کو پہنچ جائے گا اور اس کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ نیز اس لیے تاکہ گناہ گار سے نفرت نہ کی جائے جبکہ اس پرحد کا نفاذ ہو چکا ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: أن الصحابة -رضي الله تعالى عنهم- جاءوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم برجل قد شرب الخمر، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بضربه فضربه الصحابة، فبعضهم ضربه بيده دون استعمال أداة أخرى من أدوات الضرب، ومنهم الضارب بنعله وهذا من التنكيل به ومنهم الضارب بثوبه، ولم يستعملوا السوط الذي هو أداة الحد في الضرب، وجاء في رواية أنه أمر عشرين رجلًا فضربه كل رجل جلدتين بالجريد والنعال، وهذا يفسر أن الجلد أربعين، وما جاء عن الخلفاء الراشدين من زيادة على ذلك فهو تعزير راجع للإمام. ثم لما فرغ الناس من ضربه، دعا عليه بعضهم بقوله : " أخزاك الله" أي: دعا عليه بالخزي، وهو الذل والمهانة والفضيحة بين الناس، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "لا تقولوا له هكذا لا تعينوا عليه الشيطان"؛ لأنهم إذا دعوا عليه بالخزي ربما استجيب لهم، فبلغ الشيطان مأربه، ونال مقصده ومطلبه، وحتى لا ينفر العاصي وقد حد.

  • حصول حد شارب الخمر بالضرب باليد وأطراف الثوب والجريد والنعال.
  • الحدود زواجر جوابر فمن أقيم عليه الحد كان كفارة له.
  • أسلوب النبي -صلى الله عليه وسلم- في توجيه العصاة بعدم تعييرهم أو سبهم، مما يجعل ذلك أدعى إلى استجلابهم إلى ترك المعاصي.
  • لا ينبغي للمسلم أن يكون عوناً للشيطان على أخيه المسلم إذا فرط في حق من الحقوق.
  • على المسلمين أن يحرصوا على رد العصاة إلى جانب الحق و الصواب.
  • مرتكب الكبيرة لا يكفر بها لثبوت النهي عن لعنه، والأمر بالدعاء له.
  • فيه دليل على أن الإنسان إذا فعل ذنبًا وعوقب عليه في الدنيا، فإنه لا يجوز لنا أن ندعو عليه بالخزي والعار، بل نسأل الله له الهداية، ونسأل الله له المغفرة.
  • فيه تحريم شرب الخمر وأن من شربها عوقب.
  • فيه الرفع إلى ولي الأمر إذا اقتضى الأمر ذلك.
  • الدعاء للعاصي بعد إقامة الحد علية بالتوفيق والنجاة من الخذلان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید