ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي ذر رضي الله عنه مرفوعاً: «إني أرى ما لا ترون، أطَّتِ السماء وحُقَّ لها أن تَئِطَ، ما فيها موضع أربع أصابع إلا ومَلَكٌ واضع جبهته ساجدا لله تعالى، والله لو تعلمون ما أعلم، لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا، وما تلذذتم بالنساء على الفُرُشِ، ولخرجتم إلى الصُّعُداتِ تَجْأَرُون إلى الله تعالى».
ترجمہ
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھتے۔ آسمان سے چرچرانے کی آواز نکلتی ہے اور اس کا ایسی آواز دینا بالکل بجا ہے۔ آسمان میں چار انگشت کے برابر بھی جگہ نہیں، جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے، جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو پاتےاور اللہ سےفریادیں کرتے ہوئے گلیوں چوراہوں میں نکل آتے“۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ کچھ دیکھتا اور جانتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور تم نہیں جانتے۔ آسمان سے ایسے آواز آتی ہے جیسی کجاوے پر بیٹھتے ہوئے اس میں سے آواز آتی ہے اور ایسی آواز آنی بھی چاہئے۔ آسمان میں چار انگل کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ کے سامنے اپنی پیشانی ٹیکے سجدہ ریز نہ پڑا ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم اللہ کے جلال کی عظمت اور اس کے انتقام کی شدت کو ویسے جانتے ہوتے جیسے میں جانتا ہوں تو تم اس کی غالبیت کے خوف کی وجہ سے ہنستے کم اور روتے زیادہ اور خوف کی شدت کی وجہ سے تم بستروں پر اپنی عورتوں سے بھی لطف اندوز نہ ہو سکتے اور با آواز بلند اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہوئے تم راستوں میں نکل آتے۔
تشریح: العربية
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إني أبصر وأعلم ما لا تبصرون ولا تعلمون، حصل للسماء صوت كصوت الرحْلِ إذا رُكب عليه، ويحق لها ذلك؛ فما فيها موضع أربع أصابع إلا وفيه ملك واضِعٌ جبهته ساجدا لله تعالى والله لو تعلمون ما أعلم من عِظَمِ جلال الله تعالى وشدة انتقامه، لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا خوفا من سطوته سبحانه وتعالى ، وما تلذذتم بالنساء على الفرش من شدة الخوف، ولخرجتم إلى الطرقات ترفعون أصواتكم بالاستغاثة إلى الله تعالى .
- إن المؤمن بقدر ما يعلم عن الله -تعالى- من عظمة وجلال، يزداد خوفه من عقابه.
- من صفات المؤمن الخوف والهيبة من الله -تعالى-.
- الحث على الاستغاثة بالله وطلب رحمته وعفوه سبحانه.
- غيَّب الله عن الناس حقائق الآخرة؛ ليكون التكليف، ويحصل الثواب والعقاب.
- أهل السماء طائعون لله ساجدون له لا يغفلون عن ذكره.