حدیث

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی انسان جو میرے بارے میں سنے، وہ یہودی ہو یا نصرانی اور وہ اس شریعت پر ایمان نہ لائے، جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور اسی حالت میں اس کی موت ہو جائے، تو وہ جہنمی ہوگا"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أنه قال: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی انسان جو میرے بارے میں سنے، وہ یہودی ہو یا نصرانی اور وہ اس شریعت پر ایمان نہ لائے، جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور اسی حالت میں اس کی موت ہو جائے، تو وہ جہنمی ہوگا"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی قسم کھا کر بتا رہے ہیں کہ اس امت کا جو بھی شخص آپ کے بارے میں سنے گا، خواہ یہودی ہو ، عیسائی ہو یا کوئی اور، پھر وہ آپ پر ایمان لائے بغیر ہی مر جائے گا، تو وہ جہنمی ہوگا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت سارے عالم کے لیے عام ہے، آپ کی اتباع واجب ہے اور آپ کی شریعت کے ذریعے پچھلی ساری شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
  • جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا انکار کر دیا، اسے دیگر نبیوں پر ایمان رکھنے کا دعوی کچھ فائدہ نہ دے گا۔
  • جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں نہيں سنا اور اس کے پاس آپ کی دعوت نہیں پہنچی، وہ معذور ہے اور آخرت میں اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
  • انسان کو اسلام قبول کرنے کا فائدہ ملے گا، چاہے سخت بیماری میں اور موت سے کچھ دیر پہلے ہی کیوں نہ اسلام قبول کرے، جب کہ روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔
  • کافروں - جن میں یہود ونصاری بھی شامل ہیں- کے دین کو صحیح قرار دینا کفر ہے۔
  • اس حدیث میں یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ان کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے بارے میں تنبیہ کرنے کے لیے ہوا ہے۔ کیوں کہ ان دونوں قوموں کے پاس کتابیں موجود تھیں اور اس کے باوجود ان کا یہ حال ہے، تو دیگر ان قوموں کا حال کیا ہوگا، جن کے پاس کتاب نہیں ہے؟ سچائی یہ ہے کہ دنیا کی ساری قوموں پر آپ کے دین کو قبول کرنا اور آپ کی اتباع کرنا واجب ہے۔
تشریح: العربية

يَحْلِفُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالله أنه لا يَسمعُ به أَحَدٌ مِن هذه الأمة، يَهوديٌّ أو نصرانيٌّ أو غيرُهما تَبْلُغُه دعوةُ النبي صلى الله عليه وسلم ثم يموت ولم يؤمن به إلا كان من أصحاب النار خالدًا فيها أبدًا.

  • عموم رسالةِ النبيِّ صلى الله عليه وسلم إلى جميع العالم، ووجوب اتِّباعِه، ونسخ جميع الشرائع بشرعه.
  • مَن كَفَرَ بالنبي صلى الله عليه وسلم لم ينفعه زَعْمُه إيمانَه بغيرِه من الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين.
  • من لم يَسمع بالنبي صلى الله عليه وسلم، ولم تَبْلغْه دعوةُ الإسلام فهو معذور، وأَمْرُه في الآخرة إلى الله تعالى.
  • يتحقق الانتفاع بالإسلام وإن كان قُبيل الموت، ولو في المرض الشديد، ما لم تبلغ الروح الحلقوم.
  • تصحيح دين الكفار -ومنهم اليهود والنصارى- كُفْرٌ.
  • ذكر اليهودي والنصراني -في الحديث- تنبيهًا على من سواهما؛ وذلك لأن اليهود والنصارى لهم كتاب، فإذا كان هذا شأنهم، فغيرهم ممن لا كتاب له أولى، فكلُّهم يجب عليهم الدخول في دينه وطاعته صلى الله عليه وسلم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید