حدیث

ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «غَزَا نَبِيٌّ مِن الأَنبِيَاء -صلوات الله وسلامه عليهم- فقال لقومه: لاَ يَتبَعَنِّي رجُل مَلَك بُضْعَ امرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أنْ يَبنِي بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا، وَلاَ أحَدٌ بَنَى بُيُوتًا لم يَرفَع سُقُوفَهَا، ولاَ أَحَدٌ اشتَرَى غَنَمًا أو خَلِفَات وهو يَنتظِرُ أَولاَدَها، فَغَزَا فَدَنَا مِنَ القَريَةِ صَلاةَ العَصر أو قَرِيباً مِن ذلك، فَقَال للشَّمسِ: إِنَّك مَأمُورَة وأَنَا مَأمُور، اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَينَا، فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ الله عليه، فَجَمَع الغَنَائِم فَجَاءَت -يعني النار- لِتَأكُلَهَا فَلَم تَطعَمها، فقال: إِنَّ فِيكُم غُلُولاً، فَليُبَايعنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَة رجل، فَلَزِقَت يد رجل بِيَدِهِ فقال: فِيكُم الغُلُول فلتبايعني قبيلتك، فلزقت يد رجلين أو ثلاثة بيده، فقال: فيكم الغلول، فَجَاؤوا بِرَأس مثل رأس بَقَرَةٍ من الذَّهَب، فَوَضَعَهَا فجاءت النَّارُ فَأَكَلَتهَا، فَلَم تَحِلَّ الغَنَائِم لأحَدٍ قَبلَنَا، ثُمَّ أَحَلَّ الله لَنَا الغَنَائِم لَمَّا رَأَى ضَعفَنَا وَعَجزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی نےجنگ كا ارادہ کیا، تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ جہاد میں نہ آئے، جس کا کسی عورت سے نکاح ہوا ہو اور ابھی تک اس سے شب باشی نہ کی، ہو جب کہ وہ اس کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ شخص (بھی نہ آۓ) جس نے گھر تعمیر کیا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو۔ وہ شخص (بھی نہ آۓ) جس نے بھیڑ بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو۔ پھر انھوں نے جہاد کیا اور عصر کے وقت یا اس کے قریب قریب بستی کے پاس پہنچے۔ اور سورج سے کہنے لگے کہ: "تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے"۔ چنانچہ سورج رک گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انھوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی؛ لیکن جلا نہ سکی۔ یہ دیکھ کر نبی نے کہا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلے کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ (جب بیعت ہوئی تو) ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر چپک گیا۔ انھوں نے کہا کہ چوری تمھارے قبیلے والوں نے کی ہے۔ اب تمھارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو یاتین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے پر چپک گیا تو انھوں نے فرمایا کہ چوری تمہی لوگوں نے کی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا، تو آگ نے آ کر اسے جلا دیا۔ ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا“۔

تشریح

نبی ﷺ نے انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے ایک قوم کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا، جن سے جہاد کا انھیں حکم دیا گیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے ہر اس شخص کو جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو، لیکن ابھی تک اس سے ہم بستری نہ کی ہو اور ہر اس شخص کو جس نے گھر تیار کیا ہو، لیکن ابھی تک اس کی چھت نہ رکھی ہو اور ہر اس آدمی کو جس نے کچھ بھیڑ بکریاں اور حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور ان کے بچے جننے کا منتظر ہو، ان سب کو (جہاد میں شرکت سے) روک دیا۔کیوںکہ ان کے دل ان چیزوں میں لگے ہوتے ہیں، جو ان کے لیے باعث دل چسبی ہیں۔ شادی شدہ آدمی کی توجہ اپنی بیوی پر ہوتی ہے،جس سے اس نے ابھی تک مباشرت نہ کی ہو۔ وہ اس کے لیے مشتاق رہتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص جس نے گھر کی دیواریں تو اٹھا لی ہوتی ہیں، لیکن اس کی چھت نہیں ڈالی ہو، اس کا ذہن بھی اپنے گھر پر لگا ہوتا ہے، جس میں وہ اور اس کے اہل خانہ رہائش پذیر ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح حاملہ اونٹنیوں اور بھیڑ بکریوں کے مالک کا دل بھی ان میں لگا ہوتا ہے اور وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہوتا ہے۔ جہاد کے لیے تو انسان کو بالکل فارغ ہونا چاہیے، بایں طور کہ جہاد کے سوا اسے کوئی اور فکر نہ ہو۔ پھر اس نبی نے جنگ کی اور اس قوم پر نماز عصر کے بعد حملہ کیا۔ رات قریب آ رہی تھی، چنانچہ انھیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر رات کی تاریکی چھا گئی، تو فتح حاصل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے انھوں نے سورج سے مخاطب ہو کر فرمایا: "تو بھی حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں"۔ تاہم سورج کا حکم تکوینی حکم تھا اور اللہ کی طرف سے اس نبی کو جو حکم تھا وہ تشریعی تھا۔ نبی کو جہاد کرنے کا حکم تھا اور سورج مامور تھا کہ جہاں اللہ نے حکم دیا، اس طرف رواں دواں رہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: الشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ" (يس: 38) ترجمہ: اور سورج کے لیے جو مقرره راه ہے، وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔۔ یہ غالب باعلم اللہ تعالی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔ جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے، یہ جہاں کا حکم ہے، وہاں چلا جا رہا ہے، بایں طور کہ نہ تو آگے پیچھے ہوتا ہے اور نہ ہی اوپر نیچے۔ اس نبی نے دعا کی: ”اے اللہ!ہمارے لیے اسے اپنی جگہ روک دے“۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورج کو روک دیا اور وہ اپنے وقت پر غروب نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نبی نے جنگ کر لی اور بہت سارا مال غنیمت ان کے ہاتھ آیا۔ سابقہ امتوں میں جنگ میں شریک ہونے والوں کے لیے اموال غنیمت حلال نہیں تھے، بلکہ اموال غنیمت کا حلال ہونا صرف اور صرف اس امت کی خصوصیت ہے۔ و للہ الحمد۔ جب کہ سابقہ امتوں کے لوگ مال غنیمت کو اکٹھا کرتےاور اگر اللہ کہ ہاں یہ مقبول ہوتا، تو ایک آگ نازل ہو کر اسے جلا ڈالتی۔ اس نبی کو جب مال غنیمت حاصل ہوا اور وہ جمع کیا گیا، تو آگ نے نازل ہو کر اسے نہ جلایا۔ اس پر یہ نبی کہنے لگے: ”تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے“۔ پھر انھوں نے حکم دیا کہ ہر قبیلے میں سے ایک آدمی آگے آ کر اس بات پر ان سے بیعت کرے کہ انھوں نے چوری نہیں کی ہے۔ جب انھوں سے اس بات پر بیعت کرنا شروع کیا کہ انھوں نے چوری نہیں ہے تو اس دوران ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ میں چپک گیا ۔ہاتھ چپکنے پر انھوں نے فرمایا: "چوری تم میں ہے"۔ یعنی اس قبیلہ والوں نے چوری کی ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس قبیلے میں سے ہر کوئی الگ الگ بیعت کرے۔ اس پر ان میں سے دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ اس نبی نے فرمایا: ”چوری تمھارے اندر ہے“۔ چنانچہ وہ لوگ چوری شدہ مال لے کر آئے۔ انھوں نے سونے سے بنی بیل کے سر کی مانند ایک شے چھپا رکھی تھی۔ جب اسے لا کر مال غنیمت میں رکھ دیا گیا تو آگ نے اسے جلا دیا۔

تشریح: العربية

أخبر النبي صلى الله عليه وسلم عن نبي من الأنبياء -عليهم الصلاة والسلام- أنه غزا قومًا أُمِر بجهادهم، لكنه -عليه الصلاة والسلام- مَنَع كل إنسان عَقَد على امرأة ولم يَدخُل بها، وكل إنسان بنى بيتًا ولم يرفع سقفه، وكل إنسان اشترى غنمًا أو خَلِفَات وهو ينتظر أولادها، وذلك لأَنَّ هؤلاء يكونون مشغولين بما أهمهم، فالرجل المتزوج مشغول بزوجته التي لم يدخل بها، فهو في شوق إليها، وكذلك الرجل الذي رفع بيتًا ولم يُسَقِّفه، هو أيضا مشتغل بهذا البيت الذي يريد أن يسكنه هو وأهله، وكذلك صاحب الخلفات والغنم مشغول بها ينتظر أولادها. والجهاد ينبغي أن يكون الإنسان فيه مُتَفَرِّغًا، ليس له همٌّ إلا الجهاد، ثم إن هذا النبي غزا، فنَزَل بالقوم بعد صلاة العصر، وقد أَقْبَل اللَّيل، وخاف إن أظلَم اللَّيلُ أن لا يكون هناك انتصار، فجعل يخاطب الشمس يقول: أنت مأمورة وأنا مأمور، لكن أمر الشمس أمر كوني وأما أمره فأمر شرعي. فهو مأمور بالجهاد والشمس مأمورة أن تسير حيث أمرها الله عز وجل، قال الله: (والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم)، منذ خلقها الله عز وجل وهي سائرة حيث أمرت لا تتقدم ولا تتأخر ولا تنزل ولا ترتفع. قال: "اللهم فاحبسها عنا" فحبس الله الشمس ولم تغب في وقتها، حتى غزا هذا النبي وغنم غنائم كثيرة، ولما غنم الغنائم وكانت الغنائم في الأمم السابقة لا تحل للغزاة، بل حل الغنائم من خصائص هذه الأمة ولله الحمد، أما الأمم السابقة فكانوا يجمعون الغنائم فتنزل عليها نار من السماء فتحرقها إذا كان الله قد تقبلها، فجُمِعَت الغنائم فنزلت النار ولم تأكلها، فقال هذا النبي: فيكم الغلول. ثم أمر من كل قبيلة أن يتقدَّم واحد يبايعه على أنَّه لا غُلُول، فلمَّا بايعوه على أنَّه لا غلول لَزِقَت يد أحد منهم بيدِ النبي -عليه الصلاة والسلام-، فلمَّا لَزِقَت قال: فيكم الغلول -أي: هذه القبيلة- ثم أمر بأن يبايعه كل واحد على حدة من هذه القبيلة، فلزقت يد رجلين أو ثلاثة منهم، فقال: فيكم الغلول: فجاؤوا به، فإذا هُم قد أخفوا مثل رأس الثور من الذهب، فلمَّا جيء به ووضع مع الغنائم أكلتها النار.

  • الجهاد مشروع في الأمم السابقة، كما هو مشروع في هذه الأمة.
  • نهي النبي قومه عن اتباعه على أحد هذه الأحوال؛ لأن أصحابها يكونون متعلقي النفوس بهذه الأسباب، فتضعف عزائمهم وتفتر رغباتهم في الجهاد والشهادة.
  • مقصود النبي من توجيهاته تفرغ أصحابه من العوائق والأشغال ليقبلوا على الجهاد بنية صادقة وعزم حازم.
  • كفاية المجاهدين أمور الدنيا ليتفرغوا للجهاد بصدق.
  • تنوُّع الأمر إلى نوعين: أمر تكويني قدري وآخر تكليفي شرعي، فأمر الجمادات أمر تسخير وتكوين، أي قول النبي للشمس: احتبسي وانتظري، أي بتقدير الله، فهو مثل الدعاء لله بحصول هذا الشيء، وأمر العقلاء أمر تكليف، مثل قوله تعالى: (كتب عليكم القتال) (أطيعوا الله).
  • ثبوت المعجزات للأنبياء عليهم الصلاة والسلام.
  • كان للغلول أثر في قبول الغنائم في الأمم السالفة من رَدِّها، فمتى وُجِد الغُلُول لم يقبلها الله سبحانه، ومتى لم يوجد قبُلِت، وأباح الله لهذ الأمة الغنائم بدون شرط.
  • شهوات الدنيا تدعو النفس إلى محبة البقاء فيها.
  • الأمور المهمة لا ينبغي أن تُفَوَّض سياستها إلا لحازم فارغ البال، ولذلك كان مقصود النبي تفرغهم من العوائق والأشغال ليقبلوا على الجهاد بنية صادقة وعزم حازم.
  • سَتَر الله هذه الأمة ورحمها بخلاف الأمم السابقة، فقد كان من يفعل غلولا أو معصية يفضحه الله، فلله الحمد والمنة على الإسلام والسنة.
  • ينبغي للإنسان إذا أراد طاعة أن يفرغ قلبه وبدنه لها، حتى يأتيها وهو مشتاق إليها، وحتى يؤديها على مهل وطمأنينة وانشراح صدر.
  • الدلالة على عظمة الله عز وجل، وأنه هو مدبر الكون، وأنه تعالى يجري الأمور على غير طبائعها، إما لتأييد الرسول، أو لدفع شر عنه، وإما لمصلحة في الإسلام.
  • الحديث رد على أهل الطبيعة الذين يقولون: إن الأفلاك لا تتغير؟! .
  • الأنبياء لا يعلمون الغيب إلا ما أطلعهم الله عليه.
  • الدلالة على قدرة الله من جهة أن هذه النار لا يدرى كيف أوقدت، بل تنزل من السماء، لا هي من أشجار الأرض، ولا من حطب الأرض، بل من السماء يأمرها الله فتنزل فتأكل هذه الغنيمة التي جمعت.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید