حدیث

رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ كرنے كى تعليم اس طرح ديا كرتے تھے، جس طرح قرآن مجيد كى سورت كى۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُعلمنا الاسْتِخَارَةَ في الأمور كلها كالسورة من القرآن، يقول: «إذا هَمَّ أحدُكم بالأمر، فلْيَرْكَعْ ركعتين من غير الفَرِيضَةِ، ثم لْيَقُلْ: اللهم إني أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وأَسْأَلُكَ من فَضلك العظيم، فإنك تَقْدِرُ ولا أَقْدِرُ، وتعلمُ ولا أعلمُ، وأنت عَلَّامُ الغُيُوبِ. اللهم إن كنتَ تعلم أن هذا الأمر خيرٌ لي في ديني ومَعَاشِي وعَاقِبَةِ أَمْرِي» أو قال: «عَاجِلِ أَمْرِي وآجِلِهِ، فاقْدُرْهُ لي ويَسِّرْهُ لي، ثم بَارِكْ لي فيه. وإن كنت تعلمُ أن هذا الأمر شرٌّ لي في ديني ومَعَاشِي وعَاقِبَةِ أَمْرِي» أو قال: «عَاجِلِ أَمْرِي وآجِلِهِ؛ فاصْرِفْهُ عَنِّي، واصْرِفْنِي عنه، واقْدُرْ لِيَ الخيرَ حيث كان، ثم أَرْضِنِي به» قال: «ويُسَمِّي حَاجَتَهُ».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ كرنے كى تعليم اس طرح ديا كرتے تھے، جس طرح قرآن مجيد كى سورت كى۔۔ آپ ﷺ فرماتے: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے، تو دو رکعات (نفل) پڑھے۔ اس کے بعد یوں دعا کرے: اے اللہ ! میں تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں تیرے علم کے واسطہ سے، تجھ سے قدرت مانگتا ہوں تیری قدرت کے واسطہ سے اور تیرا فضلِ عظیم چاہتا ہوں، کیوں کہ تو قادر مطلق ہے میرے اندر قدرت نہیں، تو علم والا ہے مجھے علم نہیں اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے؛ میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے -یا دعا میں یہ الفاظ کہے: اِس جہاں اور اُس جہاں میں بہتر ہے- تو اسے میرے لیے مقدر کر دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے؛ میرے دین کے لیے ، میری زندگی کے لیے اور میرے انجام کار کے لیے -یا یہ الفاظ فرمائے: اِس جہاں اور اُس جہاں کے لئے برا ہے- تو اسے مجھ سے پھیر دے، مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے۔ اور فرمایا: (اس کے بعد) اپنی ضرورت کا بیان کرے“۔

تشریح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کو نمازِ استخارہ کی کیفیت سکھلانے کی اسی طرح حرص رکھتے تھے، جس طرح انھیں قرآن کی سورت کی تعلیم دینے کی حرص رکھتے تھے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ انسان فرض نمازوں کے علاوہ دو رکعات نماز ادا کرے، پھر سلام کے بعد اللہ سے دعا کرے کہ وہ (زیر ‏غور) دو معاملوں یا معاملات میں بہتر کی طرف اس کے سینے کو کھول دے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمام امور کی کیفیات و جزئیات کا علم رکھتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جا‎ئے کہ دونوں معاملوں میں بہتر کا احاطہ وہی کر سکتا ہے، جو اس سے واقف ہو اور ایسا اللہ کی ذات کے سوا کوئی نہیں ہے۔ وہ اللہ سے دونوں معاملوں میں سے جو اچھا ہو، اس کے کرنے کی طاقت مانگے اور اس کے فضلِ عظیم کا سوال کرے؛ کیوں کہ وہ ان تمام ممکنہ امور کی طاقت رکھتا ہے، جو اس کی مشیئت کے مطابق ہوں، جب کہ انسان کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتا۔ اللہ عز و جل ہر کلی و جزئی چیز کو جانتا ہے اور انسان اس میں سے اتنا ہی جانتا ہے، جتنا اللہ نے اسے سکھایا ہو؛ کیوں کہ اللہ کے علم غیب کے احاطے سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ پھر اپنے رب سے طلب کرے کہ اگر یہ کام (اور اس کا نام لے) جس کا اس نے اردہ کیا ہے، اس کے علم میں بہتر ہے اور اس کی وجہ سے کوئی دینی یا دنیوی نقصان مرتب نہیں ہوگا، تو اسے اس کے لیے مقدر و آسان کردے۔ اور اگر یہ کام اس کے علم کے مطابق کسی دینی یا دنیوی نقصان کا باعث ہو، تو اسے اس سے دور کردے اور اس کام کو اس سے دور کردے، اور بھلائی اس کا مقدر کردے، چاہے جہاں کہیں بھی وہ ہو، پھر اسے اللہ کی قضا و قدر سے راضی کردے۔

تشریح: العربية

كان النبي صلى الله عليه وسلم يحرص على تعليم صحابته كيفية صلاة الاستخارة، كحرصه على تعليمهم السورة من القرآن. فأرشد النبي صلى الله عليه وسلم أن يصلي الإنسان ركعتين من غير صلاة الفريضة ثم بعد السلام يسأل الله أن يشرح صدره لخير الأمرين أو الأمور، فإن الله يعلم كيفيات الأمور وجزئياتها، إذ لا يحيط بخير الأمرين إلا العالم بذلك، وليس ذلك إلا لله، ويسأل من الله القدرة على خير الأمرين، ويسأله من فضله العظيم، فإنه يقدر على كل ممكن تعلقت به إرادته، والإنسان لا يقدر. والله عز وجل يعلم كل شيء كلي وجزئي، والإنسان لا يعلم شيئا من ذلك إلا ما علمه الله؛ فإن الله لا يشذّ عن علمه من الغيوب شيء. ثم يسأل ربه عز وجل إن كان يعلم أن هذا الأمر الذي عزم عليه –ويسميه- خير ولا يترتب عليه نقص دينيّ ولا دنيوي، أن يقدره له وييسره. وإن كان يعلم أن هذا الأمر سيترتب عليه نقص دينيّ أو دنيوي، أن يصرفه عنه، ويصرف هذا الأمر عنه، وأن يقدر له الخير حيث كان ثم يجعله راضيا بقضاء الله وقدره به.

  • شدة حرص النبي -صلى الله عليه وسلم- على تعليم أصحابه هذه الصلاة؛ لما فيها من منفعة وخير عظيم.
  • استحباب الاستخارة والدعاء المأثور بعدها.
  • الاستخارة تستحب في الأمور المباحة التي يحصل فيها التردد، ولا تكون في الأمر الواجب أو المستحب؛ لأن الأصل فعلهما، لكن يمكن أن يستخير فيما يتعلق بها، كاختيار الرفقة في العمرة أو الحج.
  • تستحب الاستخارة في كل أمر وإن حقُر في ظن صاحبه؛ لأن الحقير قد يصبح عظيما ويترتب عليه أمور عظيمة.
  • لا تكون الاستخارة في ترك الحرام أو المكروه.
  • الأمر بصلاة الاستخارة ليس على الوجوب؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "فليركع ركعتين من دون الفريضة".
  • يؤخر الدعاء عن الصلاة لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "ثم ليقل..."الحديثَ.
  • يجب على العبد أن يرد الأمور كلها إلى الله ويجب عليه التبري من حوله وقوته؛ لأنه لا حول له ولا قوة إلا بالله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید