حدیث

اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والترمذي وأحمد

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم إذا عَطَس وضَعَ يَدَه -أو ثوبَهُ- على فيهِ، وخَفَضَ -أو غضَّ- بها صوتَهُ.

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب چھینک آتی، تو سب س پہلے اپنے منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھتے، تاکہ منہ یا ناک سے کوئی ایسی چیز نہ نکلے، جس سے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو اذیت ہو۔ دوسرے نمبر پر آواز دھیمی کر لیتے۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چھینکنے کے طریقے کا بیان اور اس میں آپ کی پیروی۔
  • چھینکتے وقت منہ اور ناک پر کپڑا یا رومال وغیرہ رکھ لینا مستحب ہے، تاکہ اس سے کوئی ایسی چيز نہ نکلے کہ اس سے پاس بیٹھے ہوئے انسان کو اذیت ہو۔
  • چھینکتے وقت آواز کو پست کر لینا چاہیے۔ یہ کمالِ ادب اور اعلیٰ اخلاق میں سے ہے۔
تشریح: العربية

كان صلى الله عليه وسلم إذا عَطَس: أولًا: يضع يدَه، أو ثوبَه على فيه؛ لئلا يخرج من فيه أو أنفه شيء يؤذي جليسَه. ثانيًا: يخفض صوته ولا يرفعه.

  • بيان هديه صلى الله عليه وسلم في العطاس والاقتداء به في ذلك.
  • استحباب وضع الثوب أو منديل ونحوه على فمه وأنفه إذا عطس لئلا يخرج منه شيء يؤذي جليسه.
  • خفض الصوت بالعطاس مطلوب، وهو من كمال الأدب، ومن مكارم الأخلاق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید