حدیث

اٹھو، تاکہ میں تمہیں نماز پڑھا دوں

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن أَنَس بنِ مَالِكٍ رضي الله عنه «أنَّ جَدَّتَهُ مُلَيكَة دَعَت رسول الله صلى الله عليه وسلم لِطَعَام صَنَعتُه، فَأَكَل مِنه، ثم قال: قُومُوا فَلِأُصَلِّي لَكُم؟ قال أنس: فَقُمتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قد اسوَدَّ من طُولِ مَا لُبِس، فَنَضَحتُه بماء، فقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وَصَفَفتُ أنا واليَتِيمُ وَرَاءَهُ، والعَجُوزُ مِن وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَكعَتَين، ثُمَّ انصَرَف». ولمسلم «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى به وبِأُمِّه فَأَقَامَنِي عن يَمِينِه، وأقام المَرأةَ خَلْفَنَا».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی مُلیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر فرمایا: ”اٹھو، تاکہ میں تمہیں نماز پڑھا دوں“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اٹھا جو کثرت استعمال سے سیاہ ہوگئی تھی۔ میں نے اس پر پانی کا چھينٹا مارا، پھر رسول اللہ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے۔ میں اور ایک یتیم لڑکے نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بوڑھی دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ واپس تشریف لے گئے۔ صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے انہيں اور ان کی ماں کو نماز پڑھائی۔ تو مجھے اپنے دائیں کھڑا کيا اور ماں کو ہمارے پيچھے کھڑا کيا“۔

تشریح

مليکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کے لیے بلایا، جو انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اعلی اخلاق اوربلند کردارسے سرفراز کياتھا۔ انہی میں سے ایک آپ کی بے حد تواضع و خاکساری ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ عظيم مقام ومرتبہ پر فائز ہونے کے باوجود چھوٹے بڑے، مرد وعورت، امير وغريب سب کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ آپ ﷺ اس کے ذريعہ کمزوروں اور محتاجوں کی غمگساری، فقيروں اور مسکينوں سے ہمدردی اور جاہلوں کی تعليم وتربيت جيسے اہم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پس آپ ﷺ اس دعوت دینے والی خاتون کے ہاں تشریف لائے اور اس کا کھانا تناول فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس موقع کو غنيمت جانتے ہوئے ان کمزوروں کو، جو بسا اوقات بڑوں کے ساتھ آپ ﷺ کی مبارک مجلسوں ميں نہيں حاضر ہوتے ہيں، تعليم دينا چاہا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سب کو کھڑے ہونے کا حکم ديا تاکہ انہيں نماز پڑھائيں جس سے انہيں نماز کی کيفيت کا علم ہو جائے۔ انس رضی اللہ عنہ ايک پرانی چٹائی کی طرف متوجہ ہوئے جو کثرت استعمال کی وجہ سے سياہ ہو چکی تھی، اس کو پانی سے دھلا۔ پھر آپ ﷺ انھیں نماز پڑھانے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے۔ انس رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ايک يتيم لڑکا نبی ﷺ کے پيچھے ايک صف ميں کھڑے ہوئے اور مليکہ رضی اللہ عنہا -جو میزبان تھیں- نماز پڑھنے کے لیے انس رضی اللہ عنہ اور يتيم لڑکے کے پيچھے کھڑی ہوئيں۔ آپ ﷺ نے انھیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ دعوت وتعليم کا حق ادا کرنے کے بعد واپس آگئے۔ الحمد للہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان کہ ہميں آپ ﷺ کے افعال واخلاق میں آپ کا متبع بنايا ہے۔

تشریح: العربية

دعت مليكة رضي الله عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته، وقد جبله الله تعالى على أعلى المكارم وأسمى الأخلاق، ومنها التواضع الجم، فكان على جلالة قدره وعلو مكانه يجيب دعوة الكبير والصغير، والذكر والأنثى، والغني والفقير، يريد بذلك الأهداف السامية، والمقاصد الجليلة من جبر قلوب البائسين، والتواضع للمساكين، وتعليم الجاهلين، إلى غير ذلك من مقاصده الحميدة، فجاء إلى هذه الداعية، وأكل من طعامها، ثم اغتنم هذه الفرصة ليعلِّم هؤلاء المستضعفين الذين ربما لا يزاحمون الكبار على مجالسه المباركة، فأمرهم بالقيام ليصلي بهم، حتى يتعلموا منه كيفية الصلاة، فعمد أنس إلى حصير قديم، قد اسود من طول المكث والاستعمال، فغسله بالماء، فقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلى بهم، وصف أنسا، ويتيما معه، صفا واحدا خلف النبي صلى الله عليه وسلم، وصفت العجوز-صاحبة الدعوة- من وراء أنس واليتيم، تصلي معهم، فصلى بهم ركعتين، ثم انصرف صلى الله عليه وسلم بعد أن قام بحق الدعوة والتعليم صلى الله عليه وسلم ، ومنَّ الله علينا باتباعه في أفعاله وأخلاقه.

  • ما كان عليه -صلى الله عليه وسلم- من التواضع، وإجابة دعوة الداعي، ولو كان امرأة.
  • صحة مصافة الذي لم يبلغ في الصلاة؛ لأنَّ اليتيم يطلق على من مات أبوه ولم يبلغ.
  • الأفضل في موقف المأمومين، أن يكونوا خلف الإمام.
  • موقف المرأة، يكون خلف الرجال.
  • جواز الاجتماع في النوافل التي لم يشرع لها اجتماع، إذا لم يتخذ ذلك عادة مستمرة.
  • جواز الصلاة، لقصد التعليم بها، أو غير ذلك من المقاصد الدينية النافعة المفيدة.
  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم-، وكرم خلقه.
  • استحباب إجابة دعوة الداعي، لاسيما لمن يحصل بإجابته جبر خواطرهم، وتطمين قلوبهم، ما لم تكن وليمة عرس، فعند ذلك تجب إجابة الدعوة.
  • الافتراش يسمى لبسا.
  • عناية الإسلام بمنع الاختلاط.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید