حدیث

میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی کا ارشاد ہے : میں تمام شریکوں سے بڑھ کر شرک سے بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ جب انسان نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اسے اللہ اور غیراللہ دونوں کے لیے کرتا ہے، تو اسے اللہ قبول نہیں کرتا، بلکہ عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرتے وقت خالص اللہ کی رضامندی کا حصول سامنے رکھنا چاہیے، کیوں کہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔

فوائد

  • اس میں تمام طرح کے شرک سے متنبہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شرک عمل کی قبولیت کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
  • اللہ کی بے نیازی اور عظمت کا احساس عمل کے اندر اخلاص پیدا کرنے میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الله تبارك وتعالى قال بأنه أغنى الشركاء عن الشرك، فهو الغني عن كل شيء، وأنَّ الإنسانَ إذا عَمِل عملًا من الطاعات وجَعَلَه لله ولغير الله؛ تَركَه اللهُ ولم يقبلْه منه، وردَّه على صاحبِه؛ فيجبُ إخلاصُ العمل لله تعالى؛ لأنه سبحانه لا يَقبل إلا ما كان خالصًا لوجهِه الكريم.

  • التحذير من الشرك بجميع أشكاله، وأنه مانعٌ من قبول العمل.
  • استشعار غنى الله وعظمته مما يعين على الإخلاص في العمل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید