حدیث

میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

یہ حدیث اپنی دیگر اسانید اور شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے۔اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن علي بن الحسين: "أنه رأى رجلا يجيء إلى فُرْجَةٍ كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيدخل فيها فيدعو، فنهاه، وقال: ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي عن جدي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:« لا تتخذوا قبري عيدا، ولا بيوتكم قبورا، وصلوا علي، فإن تسليمكم يبلغني أين كنتم».

ترجمہ

علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو نبی ﷺ کی قبر کے پاس موجود ایک شگاف میں سے اندر داخل ہوتا اور پھر دعا مانگا کرتا۔ انھوں نے اسے کہا: کیا میں تمھیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں، جو میں نے اپنے ابا سے اور انھوں نے میرے دادا سے سنی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو“۔

تشریح

علی بن الحسین (رحمہ اللہ) بتا رہے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو نبی ﷺ کی قبرمبارک کے پاس کھڑے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ کہ انھوں نے اس حدیث نبوی ﷺ کی بنیاد پر اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس میں آپ ﷺ کی قبر پر بار بار آنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں گھروں کو اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر سے تہی کرنے سے بھی منع فرمایا گیا اور ایسے گھروں کو قبروں سے تشبیہہ دی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان کی طرف سے کیا گیا سلام آپ ﷺ تک پہنچتا ہے، چاہے وہ جس جگہ پربھی ہو۔

تشریح: العربية

يخبرنا علي بن الحسين رضي الله عنه بأنه رأى رجلا يدعو الله سبحانه عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، وأنه نهاه عن ذلك مستدلا بحديث النبي صلى الله عليه وسلم الذي ورد فيه النهي عن اعتياد قبره للزيارة، والنهي عن تعطيل البيوت من عبادة الله وذكره، وتشبيهها بالمقابر مخبرا أن سلام المسلم سيبلغه صلى الله عليه وسلم في أي مكان كان فيه المسلّم.

  • مشروعية إنكار المنكر وتعليم الجاهل.
  • المنع من السفر لزيارة قبر الرسول -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؛ حمايةً للتوحيد.
  • أن الغرض الشرعي من زيارة قبر النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- هو السلام عليه فقط؛ وذلك يبلغه من القريب والبعيد.
  • تحريم قصد قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- لأجل الدعاء وكذا كل قبر.
  • تحريم تعطيل البيوت من عبادة الله وذكره.
  • تحريم الصلاة في المقابر.
  • انتفاع الأموات بدعاء الأحياء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید