حدیث

جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «إِذَا لَبِسْتُم، وَإِذَا تَوَضَّأتُم، فَابْدَأُوا بَأَيَامِنُكُم».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو“۔

تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث میں اچھے کاموں کے دائیں طرف سے آغاز کے استحباب کی تاکید ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: "إذا لبستم" یعنی جب تم لباس پہننے کا ارادہ کرو۔ "إذا توضأتم" یعنی جب تمھارا وضو کے اعمال سر انجام دینے کا ارادہ ہو۔ ”فابدءوا بأيامنكم“ 'أيامن' جمع ہے 'أيمن' کی، جو کہ 'الأيسر' کی ضد ہے۔ چنانچہ قمیص وغیرہ میں دائیں جانب کو بائیں طرف سے پہلے داخل کرے اور وضو میں اپنے دائیں ہاتھ اور پاؤں کو مقدم رکھے۔ حتی کہ معذور شخص بھی وضو کے تمام اعمال میں دائیں طرف سے آغاز کرے گا۔ واضح رہے کہ وضو کے کچھ اعضا ایسے ہیں، جن میں دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب نہیں، بلکہ انھیں یکبارگی پاک کیا جاتا ہے، جیسے دونوں کان، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں رخسار۔ اگر کسی کے لیے ایک ساتھ پاک کرنا ممکن نہ ہو، جیسے ایک ہاتھ سے معذور آدمی، تو وہ داہنے حصے کو مقدم رکھے گا۔

تشریح: العربية

أكَّد حديث أبي هريرة رضي الله عنه موضوع استحباب التيمن في الأمور الكريمة، فروى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا لبستم" أي أردتم اللبس و"إذا توضأتم" أي أردتم أعماله. "فابدءوا بأيامنكم" جمع أيمن وهو خلاف الأيسر، فيدخل الجانب الأيمن في نحو القميص، قبل الأيسر ويقدم اليمنى من يديه ورجليه في الوضوء، ثم اعلم أن من أعضاء الوضوء ما لا يستحب فيه التيامن، وهو الأذنان، والكفان، والخدان، بل يطهران دفعة واحدة، فإن تعذر ذلك كما في حق الأقطع ونحوه قدَّم اليمين.

  • الحديث مؤكد لقاعدة الشريعة: في استحباب البداءة باليمين فيما طريقه التكريم، وتقديم اليسار فيما طريقه الأذى والقذر.
  • استحباب البدء باليمين في الوضوء ولبس الثياب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید