ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما أنه سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَا وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا يُحْلَفُ بِغَيْرِ اللَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو "نہيں، کعبہ کی قسم" کہتے ہوئے سنا، تو فرمایا : غیراللہ کی قسم کھائی نہیں جائے گی، کیوں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : "”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ، اس کے ناموں اور صفات کو چھوڑ کسی اور کی قسم کھائی اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا یا شرک کیا۔ کیوں کہ قسم سے اس چیز کی تعظیم لازم آتی ہے، جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ جبکہ ہر قسم کی تعظیم صرف اللہ کے لیے ہے۔ لہذا قسم صرف اللہ، اس کے ناموں اور اس کی صفات کی کھائی جائے گی۔ قسم کھانا چھوٹا شرک ہے۔ لیکن اگر قسم کھانے والے کے دل میں اس چیز کی عظمت جس کی وہ قسم کھا رہا ہے‘ اللہ کی تعظیم کی جیسی یا اس سے بھی زیادہ ہو ، تو اس کا یہ عمل بڑا شرک بن جائے گا۔
فوائد
- قسم کے ذریعے تعظیم اللہ سبحانہ و تعالی کا حق ہے، لہذا اللہ اور اس کے اسماء و صفات کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔
- صحابہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے حریص تھے۔ خاص طور سے جب برائی کا تعلق شرک یا کفر سے ہو۔
تشریح: العربية
يُخبر النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن حَلَف بغير الله وأسمائه وصفاته فقد كَفرَ بالله أو أشرك؛ لأن الحَلِفَ يقتضي تَعظيمَ المحلوفِ به، والعظمةُ إنَّما هي للهِ وحْدَه؛ فلا يُحلَفُ إلَّا باللهِ وأسمائِه وصِفاتِه سُبحانَه، وهذا الحلف من الشرك الأصغر؛ لكن لو أنَّ الحالِفَ عظَّم ما حَلَف به كتَعظيمِ اللهِ تعالى أو أشدَّ؛ فحينئذٍ يكونُ مِن الشِّركِ الأكبرِ.
- التعظيم بالحلف حقّ لله سبحانه وتعالى فلا يُحلَف إلا بالله وأسمائه وصفاته.
- حرص الصحابة على الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، وخصوصًا إذا كان المنكر مما يتعلق بالشرك أو الكفر.