حدیث

کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہوں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کردے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ العِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلاَنِ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَيَقُولُ الآخَرُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہوں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کردے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر دن، جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، دو فرشتے اتر کر پکارتے ہیں۔ ایک کہتا ہے: اے اللہ! نیکی کے کاموں میں، بال بچوں پر، مہمانوں پر اور دیگر نفلى کاموں میں خرچ کرنے والوں کو بہتر بدلہ عطا فرما اور اس کے مال میں برکت دے۔ جب کہ دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے سے ہاتھ روک کر رکھنے والے کے مال کو، جسے اس نے حق داروں کو دینے سے روک کر رکھا ہے، تباہ کر دے۔

فوائد

  • سخی کے لیے مزید بدلے کی دعا کرنا اور یہ دعا کرنا بھی جائز ہے کہ جو اس نے خرچ کیا ہے، اس سے بہتر اسے نصیب ہو۔ نیز بخیل کو یہ بد دعا دینا جائز ہے کہ وہ مال برباد ہوجائے جس مال میں اس نے بخیلی کی اور جس کام میں اللہ نے اس پر خرچ کرنا واجب قرار دیا ہے، اس میں خرچ کرنے سے گریزاں رہا۔
  • فرشتے ان نیک مومنوں کے لیے خیر وبرکت کی دعا کرتے ہیں جو خرچ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ فرشتوں کی دعا قبول ہوتی ہے۔
  • واجب اور نفلی کاموں، جیسے اہل و عیال پر، صلہ رحمی میں اور نیکی کے تمام کاموں میں خرچ کرنے کی ترغیب۔
  • نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے والے کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بیان کہ اللہ اسے بہتر صلہ عطا کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: "تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے۔" [سورہ سبا: 39]
  • یہ بد دعا واجب نفقوں سے دست کش رہنے والے کے خلاف ہے۔ مستحب نفقے اس میں داخل نہيں ہوں گے۔ کیوں کہ ایسا کرنے والا اس بد دعا کا مستحق نہيں ہے۔
  • بخیلی اور کنجوسی حرام ہے۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّه في كلِّ يوم تَطلُع الشمسُ فيه إلّا ومَلَكَان يَنزلان يُناديان، يقول أحدهما: اللهم أعط منفقًا في الطاعات وعلى العيال والضِّيْفان والتطوُّعات خَلَفًا وعَوِّضْهُ خيرًا فيما أَنفق، وبارك له. ويقول الآخر: اللهم أعط ممسكًا عنها تَلفًا وأَهْلِكْ مالَه الذي مَنعه عن مُسْتَحِقِّيْه.

  • جواز الدعاء للكريم بمزيد من العِوَض، وأن يَخلِف عليه خيرًا مما أَنفق، وجواز الدعاء على البخيل بتَلَف ماله الذي بَخِلَ به ومَنَعَ إنفاقَه فيما أوجب الله عليه.
  • دعاء الملائكة للمؤمنين الصالحين المنفقين بالخير والبركة، وأنّ دعاءهم مستجاب.
  • الحضُّ على الإنفاق في الواجبات والتطوعات؛ كالنفقة على الأهل، وصلة الرحم، وأبواب الخير.
  • بيان فضل المُنفِق في وجوه الخير، وأنّ عاقبته أنّ الله يُخْلِفُ عليه، قال الله تعالى: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ [سبأ: 39].
  • هذا الدعاء على المُمسك عن النفقات الواجبة، وأما النفقات المستحبة فلا تدخل؛ لأن صاحبها لا يستحق هذا الدعاء.
  • تحريم البخل والشُّحّ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید