حدیث

بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه أحمد

عربی متن

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ» قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللهُ عز وجل لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا جُزِيَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً؟».

ترجمہ

محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا۔ اللہ عز و جل قیامت کے دن اس طرح کے لوگوں سے کہے گا : ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے۔ دیکھو، کیا تم ان کے یہاں بدلہ پاتے ہو؟"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کو اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔ شرک اصغر سے مراد دراصل ریا ہے۔ یعنی انسان لوگوں کو دکھانے کے لیے کام کرے۔ پھر آپ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنے والوں کو قیامت کے دن ملنے والی سزا کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے کہا جائے گا کہ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے عمل کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا وہ تم کو ان کاموں کا بدلہ دے سکتے ہیں، جو تم ان کو دکھانے کے لیے کیا کرتھے تھے؟!

فوائد

  • عمل خالص اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرنا ضروری ہے۔ انسان کو ریاکاری سے خبردار رہنا چاہیے۔
  • اپنی امت کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا شدید خوف، اس کی ہدایت کی حرص اور اس کے تئیں خیرخواہی۔
  • جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے بھی، جو سارے نیک لوگوں کے سردار تھے، اتنے خوف زدہ تھے، تو بعد کے لوگوں کے بارے میں خوف کا کیا عالم ہو سکتا ہے؟
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ أكثرَ شيءٍ يَخافُه على أُمّتِه: الشرك الأصغر وهو: الرياء؛ بأنْ يعمل من أجل الناس. ثم أخبر عن عقوبةِ المرائين يوم القيامة بأنْ يقال لهم: اذهبوا إلى مَن كنتم تعملون لأجلهم، فانظروا هل يملكون إثابتَكم ومَنْحَ الأجرِ لكم على ذلك العمل؟!

  • وجوب إخلاص العمل لله عز وجل، والحَذَر من الرياء.
  • شدة شفقتِه صلى الله عليه وسلم على أمته وحرصه على هدايتِهم ونصحه لهم.
  • إذا كان هذا خوفُه صلى الله عليه وسلم وهو يُخاطب الصحابةَ وهم ساداتُ الصالحين فالخوفُ على مَن بعدهم أشدّ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید