حدیث

وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : "سید تو اللہ ہے۔" ہم نے عرض کیا : آپ ﷺہم میں سب سے فضیلت والے اور صاحب جود و سخا ہیں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: ” تم اس طرح کی بات یا اس طرح کی کچھ بات کہہ سکتے ہو۔ مگر کہیں شیطان تمھیں اپنا وکیل نہ بنا لے ( کہ کوئی ایسی بات کہہ گزرو، جو میری شان کے مطابق نہ ہو)۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود وأحمد

عربی متن

عَن عَبدِ الله بنِ الشِّخِّير رضي الله عنه قَالَ: انْطَلَقْتُ في وَفدِ بَنِي عَامِرٍ إِلى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم، فَقُلنا: أَنتَ سيّدُنَا، فقال: «السَّيدُ اللهُ»، قُلنا: وَأَفْضَلُنا فَضْلاً، وأعظَمُنا طَوْلاً، فقال: «قُولُوا بِقَولِكُم، أَو بَعضِ قولِكُم، وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُم الشَّيطَانُ».

ترجمہ

عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں بنی عامر کے ایک وفد کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں پہنچ کر ہم نے کہا : آپ ہمارے سید ہیں۔ لہذا آپ نے کہا : "سید تو اللہ ہے۔" ہم نے عرض کیا : آپ ﷺہم میں سب سے فضیلت والے اور صاحب جود و سخا ہیں۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: ” تم اس طرح کی بات یا اس طرح کی کچھ بات کہہ سکتے ہو۔ مگر کہیں شیطان تمھیں اپنا وکیل نہ بنا لے ( کہ کوئی ایسی بات کہہ گزرو، جو میری شان کے مطابق نہ ہو)۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ لوگ پہنچے۔ پہنچنے کے بعد انھوں نے آپ کی تعریف میں کچھ باتیں کہیں، جو آپ کو پسند نہيں آئیں۔ انھوں نے کہا : "آپ ہمارے سید ہیں"۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا: "سید تو اللہ ہے"۔ اسی کے پاس مخلوقات کی مکمل سرداری ہے۔ سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : "آپ ہم میں سب سے فضیلت والے" یعنی سب سے اونچے مرتبے، شرف و منزلت اور امتیازی شان والے ہیں۔ "اور آپ ہم میں سب سے صاحب جود و سخا" یعنی داد و دہش کرنے والے اور اونچی شان کے حامل ہيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ آپ کو سادہ الفاظ میں مخاطب کریں اور بھاری بھرکم الفاظ تلاش نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان انہیں مبالغہ آرائی کی راہ پر لے جائے، جو شرک اور اس کے اسباب کی طرف لے جاتا ہے۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے دل میں آپ کا احترام۔
  • الفاظ کے انتخاب میں تکلف سے کام لینے کی ممانعت اور گفتگو میں میانہ روی کا حکم۔
  • توحید کو ایسے اقوال و افعال سے محفوظ رکھنا، جو اس میں خلل انداز ہوتے ہيں۔
  • تعریف میں غلو سے کام لینے کی ممانعت۔ کیوں کہ یہ شیطان کا چور دروازہ ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اولاد آدم کے سردار ہيں۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تواضع کے طور پر اور اس خوف سے کہی گئی ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں غلو نہ کرنے لگيں۔
تشریح: العربية

جاءَ جماعةٌ إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم، فلمّا وَصَلَوا إليه قالوا -مَادِحِين له- بعضَ الكلمات التي كَرِهَها صلى الله عليه وسلم، فقالوا: "أنت سيدُنا"، فقال لهم صلى الله عليه وسلم: "السيدُ الله" فله السُّؤْدَدُ التامُّ على خلقِهِ وهم عبيدُهُ. وقالوا: أنت "أَفْضَلُنا فَضْلًا" وأعلانا رُتبةً وشرفًا ومزيةً. وأنت "أعظَمُنا طَوْلًا" وأكثرنا عطاءً وعُلوًّا ورفعةً. ثم أرشدَهم النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن يقولوا قولهم المعتاد ولا يتكلَّفوا الألفاظ، وألَّا يَجُرَّهم الشيطان إلى الغلو والإطراء الذي يُوقِع فيما حُرِّم من الشرك ووسائله.

  • عظم قدر النبي صلى الله عليه وسلم في نفوس أصحابه واحترامهم له.
  • النهي عن التكلّف في الألفاظ، والاقتصاد في المقال.
  • حماية التوحيد عما يُخِلُّ به من الأقوال والأعمال.
  • النهي عن الغلو في المدح، فهو من مداخل الشيطان.
  • النبي صلى الله عليه وسلم هو سيِّدُ ولد آدم، وما جاء في الحديث هو من باب التواضع، ومن باب الخوف عليهم أن يغلو فيه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید