ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ: «إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ».
ترجمہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ ﷺ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: "تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جارہے ہو۔ تم انہیں سب سے پہلے اس بات کی طرف دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ تعالی نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر انہی میں سے فقیر لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان جائیں تو ان کے عمدہ اور قیمتی اموال لینے سے پرہیز کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، کیوں کہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا"۔
تشریح
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو داعی اور معلم کی حیثیت سے یمن کی جانب بھیجا، تو ان سے کہا کہ ان کو ایک عیسائی قوم کا سامنا کرنا ہے، تاکہ وہ اس کے لیے تیار رہيں اور اس کے بعد بتایا کہ ان کو دعوت کے کام کا آغاز کرتے وقت اہم ترین سے اہم کی طرف رخ کرنے کے قاعدے کا دھیان رکھنا چاہیے۔ چنانچہ سب سے پہلے عقیدے کی اصلاح کی دعوت دینی چاہیے یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اسی گواہی کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جب وہ یہ گواہی دے دیں، تو ان کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں، کیوں کہ نماز توحید کے بعد سب سے بڑا فریضہ ہے۔ جب نماز قائم کر لیں، تو اس قوم کے مال داروں کو حکم دیں کہ اپنے فقیروں کو اپنے اموال کی زکاۃ دیں۔ اس کے بعد ان کو افضل ترین مال لینے سے منع کیا، کیوں کہ (زکاۃ میں) درمیانے قسم کا مال لینا ہی واجب ہوتا ہے۔ پھر ان کو ظلم سے بچنے کی وصیت کی، تاکہ مظلوم کی بد دعا کا شکار نہ ہونا پڑے، کیوں کہ مظلوم کی بد دعا قبولیت سے سرفراز ہو جاتی ہے۔
فوائد
- اللہ کے علاوہ کسی کے سچے معبود نہ ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں: ہر قسم کی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا اور اس کے علاوہ دوسروں کی عبادت کو مکمل چھوڑ دینا۔
- محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کے معنی ہیں، ان پر اور ان کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان لانا، ان کی تصدیق کرنا اور اس بات کو ماننا کہ وہ انسانوں کی جانب بھیجے جانے والے آخری رسول ہیں۔
- علم رکھنے والے اور شبہات کے شکار شخص کو دعوت دینا جاہل کو دعوت دینے کی طرح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : "تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔"
- اس بات کی اہمیت کہ ایک مسلمان کو اپنے دین کے سلسلے میں بصیرت کا حامل ہونا چاہیے، تاکہ شبہات پیدا کرنے والوں کے شبہات سے بچ سکے۔ اس کے لیے علم طلب کرنا ضروری ہے۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں کا دین باطل ہو گیا اور اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے ان کو قیامت کے دن نجات نہیں مل سکتی۔ نجات پانے کے لیے اسلام میں داخل ہونا اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانا ضروری ہے۔
تشریح: العربية
لما أَرسلَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم معاذَ بن جبل رضي الله عنه إلى بلاد اليمن داعيًا إلى الله ومُعلِّمًا، بَيَّنَ له أنه سيواجه قومًا من النصارى؛ ليكون على استعداد لهم، ثم ليبدأ في دعوتهم بالأهم فالأهم، فيدعوهم إلى إصلاح العقيدة أولًا؛ بأن يشهدوا أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله؛ لأنهم بها يدخلون الإسلام، فإذا انقادوا لذلك أمرهم بإقام الصلاة؛ لأنها أعظم الواجبات بعد التوحيد، فإذا أقاموها أمر أغنياءهم بدفع زكاة أموالهم إلى فقرائهم. ثم حذّره من أخذ أفضل المال؛ لأن الواجب الوسط. ثم أوصاه باجتناب الظلم؛ لئلا يدعو عليه المظلوم، فإن دعوته مستجابة.
- معنى شهادة أن لا إله إلا الله هو إفراد الله بالعبادة، وترك عبادة ما سواه.
- معنى شهادة أن محمدًا رسول الله هو الإيمان به وبما جاء به وتصديقه وأنه آخر رسل الله إلى البشرية.
- مخاطبة العالِم ومَن لديه شُبهات ليست كمخاطبة الجاهل؛ لذا نَبَّه معاذًا بقوله: "إنك تأتي قومًا أهل كتاب".
- أهمية أن يكون المسلم على بصيرة من دينه؛ ليَتَخلَّص من شُبهات المشبِّهين، وذلك بطلب العلم.
- بطلان دين اليهود والنصارى بعد بعثة الرسول صلى الله عليه وسلم، وأنهم ليسوا من أهل النجاة يوم القيامة حتى يدخلوا في دين الإسلام، ويؤمنوا بالنبي صلى الله عليه وسلم.