ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن النُّشْرَةِ؟ فقال: هي من عمل الشيطان.
ترجمہ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نُشرَہ ( زمانۂ جاہلیت کا ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ شیطانی عمل ہے۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ سے جادو کے علاج کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جیسے جاہلیت میں علاج کیا جاتاتھا مثلاً جادو کا علاج جادو کے ذریعے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ یہ شیطانی عمل ہے یا اس کے واسطے سے ہے کیوں کہ اس میں بہت ساری جادو کی اقسام اور شیطانی خدمات کا استعمال ہوتا ہے، لہذا یہ شرکیہ اور حرام عمل ہے۔ اور ’’جائز نشرہ‘‘ جادو کا ــــــــــ دم کے ذریعہ، یا اس کا کھوج کرکے توڑنا ہے، اسی طرح اسے ہاتھ کے ذریعہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ یا جائز ادویات سے توڑنا ہے۔
فوائد
- جس چیز کا حکم معلوم نہ ہو پا رہا ہو، اس کے بارے میں علما سے سوال کرنے کی حکم، تاکہ غلطی میں پڑنے سے بچا جاسکے۔
- جاہلیت کے طریقہ پر نُشرہ (زمانۂ جاہلیت کا ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے) کرنے کی ممانعت، کیوں کہ یہ جادو ہے اور جادو کفر ہے۔
- تمام شیطانی کام حرام ہیں۔
تشریح: العربية
أن النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سئل عن علاج المسحور على الطريقة التي كانت تعملها الجاهلية، مثل: حل السحر بالسحر ما حكم ذلك، فأجاب -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بأنه من عمل الشيطان أو بواسطته؛ لأنه يكون بأنواع سحرية واستخداماتٍ شيطانيةٍ، فهي شركية ومحرمة. أما النشرة الجائزة: فهي فك السحر بالرقية أو بالبحث عنه، وفكه باليد مع قراءة القرآن أو بالأدوية المباحة.
- مشروعية سؤال العلماء عما أشكل حكمه؛ حذرًا من الوقوع في المحذور.
- النهي عن النشرة على الصفة التي تعملها الجاهلية؛ لأنها سحر والسحر كفر.
- أن أعمال الشيطان كلها محرمة.